رسائی کے لنکس

نمونیا: ہر20 سیکنڈ میں ایک بچے کی موت واقع ہوتی ہے: عالمی ادارہٴ صحت

  • لیزا شلائین

نمونیا: ہر20 سیکنڈ میں ایک بچے کی موت واقع ہوتی ہے: عالمی ادارہٴ صحت

نمونیا: ہر20 سیکنڈ میں ایک بچے کی موت واقع ہوتی ہے: عالمی ادارہٴ صحت

’ جِن بچوں میں نمونیا نے شدت اختیار نہ کی ہو، اُن کا گھر پر علاج معالجہ بہتر ہوگا‘: ڈبلیو ایچ او کی سفارش

عالمی ادارہٴ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی اطلاع کےمطابق نمونیا کی وجہ سے ہر20سیکنڈ میں ایک بچے کی موت واقع ہوتی ہے اور اموات کی 98فی صد شرح ترقی پذیر ملکوں میں ہے۔

ادارے کا اندازہ ہے کہ مجموعی طور پر ہر سال تقریباً 15لاکھ بچے اِس مرض کےباعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یہ شرح ایڈز، ملیریا اورتپِ دق کے امراض کی وجہ سے ہونےوالی اموات کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ نمونیا کی روک تھام اور مناسب علاج معالجے سے ہر سال بچوں میں دس لاکھ اموات کو روکا جاسکتا ہے۔

سابق گلوبل الائنس فور ویکسین اینڈ امیونائزیشن، جنیوا میں قائم عالمی سطح پر کام کرنے والا پبلک پرائیویٹ اتحاد ہے۔ اُس کاکہنا ہے کہ نمونیا سے بچاؤ کے لیے تیار ویکسین پہلے صرف امیر اورخوشحال ملکوں میں دستیاب تھی، لیکن اب ترقی پذیر ملکوں میں بھی اِسے متعارف کرایا جارہا ہے۔

لیکن، ویکسین کے ساتھ ساتھ نمونیا میں مبتلہ ہونے والے بچوں کے علاج معالجے کے لیے اینٹی بایوٹیکس بھی درکار ہیں۔

بدقسمتی سےغریب ملکوں میں بیشتر بچوں کو صحت کےمراکز تک پہنچانا ممکن نہیں ہوتا، جہاں زندگی بچانے کا علاج معالجہ کیا جاسکتا ہے۔

عالمی ادارہٴ صحت کی طرف سے پاکستان میں مرتب کیے گئے ایک جائزے کے تنائج سے پتا چلتا ہے کہ بیشتر بچوں کا علاج گھر پر کامیابی سے کیا جاسکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی خاتون ترجمان، اولویا لاوت ڈیوس کہتی ہیں کہ اِس جائزے کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ جائزے کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ گھروں پر اینٹی بایوٹکس سے بچوں کا علاج کرنا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ بعض اوقات بچوں کوکسی صحت کے مرکز تک لے جاتے لے جاتے دیر ہوجاتی ہے، اوراگر وہ وہاں پہنچ بھی جائیں تو ممکن ہے کہ اُن کا اُس طرح سے علاج نہ ہوسکے جو اُنھیں درکار ہے۔

اِس سے یہ پتا چلتا ہے کہ گھر پر علاج معالجہ کرنے کے نتائج دراصل نسبتاً بہتر ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی سفارش ہے کہ جِن بچوں میں نمونیا نے شدت اختیار نہ کی ہو اُن کا گھر پر علاج معالجہ بہتر ہوگا۔حالیہ مطالعے اور جائزے سے پتا چلتا ہے کہ شدید نمونیا میں مبتلہ بچوں کا بھی گھر پر ہونے والا علاج بہتر رہتا ہے۔

لاوت ڈیوس کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او مختلف مقامات پر یہ جائزے مرتب کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے اور اگر نتائج سے یہی پتا چلے کہ شدید نمونیا میں مبتلہ بچوں کا گھر پر مؤثر علاج ممکن ہے تو اِس سے علاج تک زیادہ رسائی ہوجائے گی اور اخراجات بھی کم ہوں گے، اور اِس طرح سے، مزید جانیں بچائی جاسکیں گی۔

XS
SM
MD
LG