رسائی کے لنکس

زندگی بسر کرنے کے لیے، اُنھوں نے کئی پیشے اپنائے۔ وہ ویٹر، باورچی اور اسٹریٹ کار کی کنڈکٹر رہ چکی تھیں۔ تاہم، فنونِ لطیفہ، موسیقی سیکھنے کا شوق، ڈرامہ اور رقص سے اُن کی رغبت زندگی بھر قائم رہی

نامور امریکی شاعرہ، مصنفہ اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن، مایا اینجلو انتقال کر گئی ہیں۔ اُن کی عمر 86 برس تھی۔

سنہ 1969 میں اُن کی مشہور خودنوشت سوانح عمری 'I Know Why the Caged Bird Sings' شائع ہوئی۔ اُن کا انتقال نارتھ کیرولینا کے شہر وِنسٹن سالم میں ہوا۔

وہ ریاست مزوری کے شہر سینٹ لوئی میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا بچپن ارکینساس میں گزرا۔ بچپن میں جسمانی تشدد کا شکار ہونے کے بعد, اُنھوں نے پانچ برس تک چپ سادھ لی۔

اپنی کفالت کے لیے، اُنھوں نے کئی پیشے اپنائے۔ وہ ویٹر، باورچی اور اسٹریٹ کار کی کنڈکٹر رہ چکی تھیں۔ تاہم، فنونِ لطیفہ، موسیقی سیکھنے کا شوق، ڈرامہ اور رقص سے اُن کی رغبت زندگی بھر قائم رہی۔

اینجلو کے ادبی سفر کا آغاز اُس وقت ہوا جب نامور ادیب جیمز بالڈون اور دیگر حضرات نےاُن کے بچپن کی کہانیاں سنیں، اور اُن سے کہا تھا کہ وہ اِنہیں ضبط تحریر میں لائیں۔

سنہ 1993میں سابق صدر، بِل کلنٹن نے عہدہٴصدارت پر فائز ہونے کی تقریب کے لیے اُن سے ایک نظم لکھنے کو کہا۔

اِس نظم میں اُنھوں نے ’امید اور مفاہمت‘ کے جذبات اجاگر کیے۔

’ویک فاریسٹ یونیورسٹی‘ نے اُن کی موت کی تصدیق کی ہے، جہاں اُنھوں نے 1982ء سے امریکی مطالعے کے پروفیسر کے طور پر فرائض انجام دیے۔

حالیہ دنوں میں، اینجلو نے عام تقریبات میں شرکت کا سلسلہ بند کردیا تھا۔
XS
SM
MD
LG