رسائی کے لنکس

شام: ایک اور کیمیائی حملے کی اطلاعات


فائل

فائل

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے گیس حملے کا الزام 'القاعدہ' سے منسلک باغی تنظیم 'النصرہ فرنٹ' پر عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں کلورین گیس استعمال کی گئی۔

شام کی حکومت اور باغیوں نے ملک کے وسطی علاقے کے ایک گاؤں میں زہریلی گیس کے حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک دوسرے پر اس کا الزام عائد کیا ہے۔

شامی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد 'سیرین نیشنل کولیشن' نے ہفتے کو جاری کیے جانے والے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری افواج نے خفر زیتا نامی گاؤں پر جمعے کو فضائی حملہ کیا تھا جس کے دوران گاؤں پر زہریلی گیس کے کنستر بھی پھینکے گئے۔

لندن میں قائم شامی حزبِ اختلاف کی حامی تنظیم 'سیرین آبرویٹری فار ہیومن رائٹس' نے بھی حملے کے تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملے اور فضائی بمباری میں کئی درجن افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے گیس حملے کا الزام 'القاعدہ' سے منسلک باغی تنظیم 'النصرہ فرنٹ' پر عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں کلورین گیس استعمال کی گئی۔

سرکاری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حملے کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شام میں گزشتہ سال اگست میں دارالحکومت دمشق کے نزدیک کیے جانے والے کیمیائی حملے کے بعد پہلی بار اس نوعیت کے حملے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

اگست 2013ء میں کیے جانے والے اس حملے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے حملے کا الزام شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت پر عائد کیا تھا جب کہ شامی حکومت نے باغیوں کو موردِ الزام ٹہرایا تھا۔

حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بین الاقوامی ردِ عمل اور دباؤکے زیرِ اثر شام کی حکومت نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے عالمی نگرانی میں تلف کرنے پر آمادگی ظاہر کردی تھی۔

ان ہتھیاروں کو شام سے باہر لے جاکر تلف کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
XS
SM
MD
LG