رسائی کے لنکس

عالمگیر خان جمعرات کو کچرے سے بھرے ٹریکٹر اور ٹرالی کے ساتھ وزیر اعلیٰ ہاوٴس پہنچے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ان کے یہاں آنے کا مقصد شہر میں ’’جگہ جگہ پھیلی گندگی اور تعفن کے خلاف حکومت کی توجہ مبذول کرانا ہے۔۔۔ ‘‘

کراچی شہر میں صفائی کی بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی کے خلاف انوکھی مہم ’فکس اٹ‘ کے بانی، عالمگیر خان کو وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے کچرہ پھینکنے پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔

عالمگیر خان جمعرات کو کچرے سے بھرے ٹریکٹر اور ٹرالی کے ساتھ وزیراعلیٰ ہاوٴس پہنچے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے یہاں آنے کا مقصد ’’شہر میں جگہ جگہ پھیلی گندگی اور تعفن کے خلاف حکومت کی توجہ مبذول کرانا ہے۔۔۔ “

لیکن، جونہی انہوں نے سی ایم ہاوٴس کے سامنے ٹریکٹر ٹرالی سے کچرا انڈیلنے کی کوشش کی، پولیس نے انہیں اور ڈرائیور کو گرفتار کرلیا۔

اس دوران، خاصہ ہنگامہ کھڑا ہوگیا یہاں تک کہ میڈیا کو بھی اس کی خبر لگ گئی اور بہت سے نجی چینلز نے اس واقعے کو بھرپور کوریج دی۔

پولیس نے ڈرائیور اور عالمگیر خان کو گرفتار کرکے تھانہ سول لائنز منتقل کیا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

واقعے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران اسماعیل اور خرم شیر زمان سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد تھانہ سول لائنز پہنچ گئی۔ واقعے کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا، جبکہ اس دوران زبردست نعرے بازی بھی کی گئی۔ احتجاج کے باعث وزیر اعلیٰ ہاوٴس کی اطرافی سڑکوں پر بری طرح ٹریفک جام ہوگیا۔

عالمگیر کے والد دلاور خان نے تھانہ سول لائنز کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’عالمگیر کراچی کا بیٹا ہے اور شہر کی خدمت کر رہا ہے اس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔‘

اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ ’’عالمگیر غیر سیاسی آدمی ہے، معلوم نہیں اس کی گندگی کے خلاف مہم سے کیا مسئلہ ہے۔“

گرفتاری سے قبل میڈیا سے گفتگو میں عالمگیر خان کا کہنا تھا کہ وہ کچرے کا ڈبہ رکھنے وزیر اعلیٰ ہاوٴس آئے تھے، ’’تاکہ شہر بھر کے لوگ اس میں کچرا ڈالیں اور وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کو بھی پتہ چلے کہ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر سے کتنی بدبو آتی ہے اور کس طرح اس سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ جس کچرے سے انسانی جان کو خطرہ ہے، اس سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، لاہور میں بھی کچرے کو ری سائیکل کیا جارہا ہے، لیکن یہاں ایسا نہیں ہو رہا ہے۔

عالمگیر خان نے 2 ماہ قبل کراچی میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر اور کھلے مین ہولز کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرانے کیلئے انوکھی مہم ’فکس اٹ‘ شروع کی تھی جس میں انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں بغیر ڈھکن والے مین ہولز کا تعین کرکے ان کے قریب اسٹینسل کی مدد سے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا خاکہ بنایا اور ساتھ ’فکس اٹ‘ لکھا دیا تھا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے اس عمل کا فوری ایکشن لیتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر اندر شہر کے تمام گٹروں پر ڈھکن لگانے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

XS
SM
MD
LG