رسائی کے لنکس

ڈکوٹا پائپ لائن: پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں


اتوار کی شب ہونے والی جھڑپوں کے دوران مظاہرین نے کئی مقامات پر آگ لگادی

اتوار کی شب ہونے والی جھڑپوں کے دوران مظاہرین نے کئی مقامات پر آگ لگادی

مظاہرین کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے پولیس نے ان پر آنسو گیس کے شیل اور ربر کی گولیاں برسائیں اور پانی کی بوچھاڑ کی۔

امریکہ کی ریاست نارتھ ڈکوٹا میں تیل کی ایک پائپ لائن کی تعمیر کے خلاف گزشتہ کئی ماہ سے احتجاج کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان ایک بار پھر جھڑپیں ہوئی ہیں۔

جھڑپوں کا آغاز اتوار کی شب اس وقت ہوا جب لگ بھگ 400 مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹیں ہٹا کر ایک پل کی جانب زبردستی بڑھنے کی کوشش کی جو گزشتہ ماہ سے بند ہے۔

بیک واٹر برج نامی اس پل کو اکتوبر میں حکام نے اس وقت بند کردیا تھا جب نزدیک ہی واقع ایک احتجاجی کیمپ کو اکھاڑنے کی کوشش کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔

علاقہ پولیس کے بیان کے مطابق اتوار کی شب پل کی جانب بڑھنے والے مظاہرین نے وہاں تعینات اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور جگہ جگہ آگ لگادی۔

مظاہرین کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے پولیس نے ان پر آنسو گیس کے شیل اور ربر کی گولیاں برسائیں اور پانی کی بوچھاڑ کی۔ پولیس کے بیان کے مطابق کارروائی کے دوران ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جب کہ مظاہرین کے پتھراؤ سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے۔

ڈکوٹا ایکسس پائپ لائن کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ اس پائپ لائن کے نتیجے میں علاقے میں آباد ریڈ انڈین قبیلے 'اسٹینڈنگ راک سو' کو پانی فراہم کرنے والے ذخیرے اور اس علاقے کو خطرہ ہے جسے قبیلہ اپنے لیے مقدس تصور کرتا ہے۔

امریکہ کے شمال سے وسطی ریاستوں کی جانب جانے والی سترہ سو کلومیٹر طویل اس پائپ لائن کی تعمیر تقریباً مکمل ہوگئی ہے جس کے ذریعے نارتھ ڈکوٹا میں واقع دو آئل فیلڈز سے روزانہ تقریباً چار لاکھ بیرل خام تیل الی نوائے میں واقع پائپ لائنوں کے ایک مرکز تک پہنچایا جاسکے گا۔

پائپ لائن کی تعمیر کے خلاف احتجاج نے جولائی میں اس وقت زور پکڑا تھا جب پائپ لائن تعمیر کرنے والی کمپنی نے دریائے میسوری کے نزدیک واقع ایک علاقے لیک اوہائے کے نیچے سے پائپ لائن بچھانے کا اجازت نامہ حاصل کیا تھا۔ یہ علاقہ ریڈ انڈین قبیلے اسٹینڈنگ راک سو کے زیرِ انتظام علاقے سے محض چند سو میٹر دور ہے جو پائپ لائن کے خلاف احتجاج میں پیش پیش ہے۔

گزشتہ کئی ماہ سے سیکڑوں مظاہرین مقامی قبیلے سے اظہارِ یکجتہی کے لیے پائپ لائن کی تعمیر کے مقام پر قائم احتجاجی کیمپ میں مقیم ہیں۔ امریکہ میں آباد سیکڑوں ریڈ انڈین قبیلوں میں سے نصف سے زائد نے بھی احتجاجی قبیلے کی حمایت کا اعلان کیا ہے جب کہ امریکی کانگریس کے کئی ارکان بھی اوباما انتظامیہ سے پائپ لائن کی تعمیر روکنے کی درخواست کرچکے ہیں۔

مظاہرین کے دباؤ پر وفاقی حکومت نے پائپ لائن تعمیر کرنے والی کمپنی سے رضاکارانہ طور پر متنازع مقام کے نزدیک پائپ لائن کی تعمیر عارضی طور پر روکنے کی درخواست کی تھی تاکہ اس دوران متبادل راستے پر غور کیا جاسکے۔ لیکن مقامی عدالتیں کمپنی کو پائپ لائن کی تعمیر روکنے کا حکم دینے سے متعلق درخواستیں مسترد کرچکی ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG