رسائی کے لنکس

شام جانے والی تین برطانوی بچیوں کا سراغ


خدیجہ سلطانہ اور شمیمہ بیگم

خدیجہ سلطانہ اور شمیمہ بیگم

ایک تجزیہ کار کہتے ہیں کہ، شام میں داعش کے شدت پسند گروہ میں شمولیت اختیار کرنے والے تقریباً 3000 یورپی شہریوں میں سے 500 خواتین اور لڑکیاں ہیں

برطانوی اسکول کی ان تین مسلمان طالبات سے ملنے کے لئے برطانوی پولیس ترکی روانہ ہوگئی ہے، جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ انھیں شام کے دولت اسلامیہ کے شدت پسند گروپ میں شمولیت کے لئے بھرتی کیا تھا۔

لندن سے وائس اف امریکہ کے نمائندے، الپیسن کی رپورٹ کے مطابق 15 سے 16 سال کی عمر کی یہ طالبات گزشتہ ہفتے لندن میں اپنے گھر سے لاپتا ہوگئی تھیں اور بظاہر وہ استبول پرواز کرگئی تھیں، جو کہ داعش میں بھرتی ہونے والوں کے شام جانے والوں کا پہلا پڑاوٴ ہے۔

تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ تینوں لڑکیاں بنیاد پرست سماجی ویب سائیٹ کو فالو کرتی رہی ہیں، اور اُن میں سے کم از کم ایک، 2013ء میں شام جانے والی داعش کی معروف ریکروٹر لڑکی سے رابطے میں تھی۔

جوناتھن رسل انسداد بنیاد پرستی، قوالیم فاونڈیشن سے وابستہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ، ’چونکہ ایسی لڑکیوں کا کردار کسی سے لڑنے کا نہیں ہوتا، اس لئے وہ بیوی اور ماں بن سکتی ہیں۔ لیکن، یہ ایک پروپگنڈا بھی ہوسکتا ہے۔ ان کی انگریزی زبان کی مہارت کو ان کے ویڈیو بنانے کے لئے استعمال کیا جائے گا اور مجھے یقین ہے کہ وہ بنیاد پرستی اور کام کے نوجوانوں کی بھرتیوں کے لئے بھی (کام کرسکتی ہیں)‘۔

رسل کہتے ہیں کہ داعش کے شدت پسند گروہ میں شمولیت اختیار کرنے والے تقریباً 3000 یورپی والوں میں سے 500 خواتین اور لڑکیاں ہیں۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس اسکول کی جانب سے شام کا دورہ کرنے والی لڑکیوں میں سے ان تین سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ لیکن، ان میں اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے تھے کہ لڑکیاں اس خطرے سے دو چار ہیں۔

مہینے بھر سے یورپی حکام دولت اسلامیہ کی بھرتیوں کو روکنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن رسل کہتے ہیں کہ حکومت کی توجہ قانون کی بالا دستی قائم کرنے پر ہونی چاہئے؛ جبکہ خاندان، اسکول اور مذہبی ادارے ان نوجوانوں کو بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور حکومت صرف ان کی مدد کرے۔

اُن کے الفاظ میں، ’ہمیں اساتذہ اور یونیورسٹی لیکچرارز کو تربیت دینے، خاندان کو شریک کرنے کی ضرورت ہے جو روزانہ انتہا پسندی کا شکار ہونے والوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ جو ان کے روئے میں تبدیلی کا نوٹس لے سکتے ہیں اور مداخلت کرکے انھیں بنیاد پرستی کے چنگل میں پھنسنے سے روک سکتے ہیں‘۔

XS
SM
MD
LG