رسائی کے لنکس

پولیس حکام کے مطابق یہ جھڑپ ایک گھنٹے تک جاری رہی جس کے بعد علاقے سے انھیں ماؤ باغیوں کی 12 لاشیں اور ان کے زیر استعمال آٹھ خودکار بندوقیں ملیں۔

بھارت کی مشرقی ریاست جھاڑکھنڈ میں پولیس اور ماؤ باغیوں کے درمیان جھڑپ میں کم ازکم 12 باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کے انسپکٹر جنرل ایس این پردھان کے مطابق منگل کو علی الصبح ضلع پالاماؤ یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب باغیوں کا ایک گروپ مختلف کانوں کے ٹھیکیداروں سے سے مبینہ طور پر بھتہ وصول کر کے جا رہا تھا کہ پولیس نے انھیں روکا۔

پولیس حکام کے مطابق یہ جھڑپ ایک گھنٹے تک جاری رہی جس کے بعد علاقے سے انھیں ماؤ باغیوں کی 12 لاشیں اور ان کے زیر استعمال آٹھ خودکار بندوقیں ملیں۔

بھارت میں ان باغیوں کو نکسل وادی بھی کہا جاتا ہے اور 1960ء کی دہائی میں شروع ہونے والی اس بغاوت میں شامل لوگ اب ملک کی تقریباً بیس ریاستوں میں مسلح مزاحمت کرتے آرہے ہیں۔

سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے اس بغاوت کو ملک کی داخلی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔

ماؤ باغی زیادہ تر جنگلات اور معدنی وسائل سے مالا مال ریاستوں میں سرگرم ہیں جن میں قابل ذکر چھتیس گڑھ، اوڑیسا، بہار، جھاڑکھنڈ اور مہاراشٹر ہیں۔

اپنے تئیں غریبوں کے حقوق، ملازمتوں اور زمین کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والے ان ماؤ باغیوں کی کارروائیوں اور سکیورٹی فورسز سے ان کی جھڑپوں میں اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG