رسائی کے لنکس

امریکی پولیس اہلکار پر قتل کی فرد جرم عائد


مرنے والے شخص کی ماں کو پریس کانفرنس کے دوران اس کا دوسرا بیٹا دلاسا دے رہا ہے۔

مرنے والے شخص کی ماں کو پریس کانفرنس کے دوران اس کا دوسرا بیٹا دلاسا دے رہا ہے۔

یہ پورے امریکہ میں مہلک پولیس تصادم کے واقعات کے سلسلے کا تازہ ترین واقعہ ہے اور اس نے پولیس کی جانب سے اقلیتوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے بارے میں سوالات کو جنم دیا ہے۔

امریکہ کی وسطی ریاست اوہائیو میں یونیورسٹی آف سنسناٹی کے ایک اہلکار پر قتل کی فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ اس نے کیپمس کے قریب ایک غیر مسلح سیاہ فام کارسوار پر فائرنگ کی تھی جس سے وہ ہلاک ہو گیا تھا۔

ہملٹن کاؤنٹی کے وکیل استغاثہ نے ایک پریس کانفرنس میں گرینڈ جیوری کی طرف سے فرد جرم کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سیموئیل ڈوبوز کی موت ’’بلاجواز اور احمقانہ فائرنگ‘‘ کے نتیجے میں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ سفیدفام اہلکار رے ٹینسنگ نے ڈوبوز کے سر میں گولی ماری اور یہ کہ اسے پولیس افسر ہونا ہی نہیں چاہیئے تھا۔ انہوں نے اس سے زیادہ تفصیل نہیں بتائی۔

یہ پورے امریکہ میں مہلک پولیس تصادم کے واقعات کے سلسلے کا تازہ ترین واقعہ ہے اور اس نے پولیس کی جانب سے اقلیتوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے بارے میں سوالات کو جنم دیا ہے۔

حکام نے کہا ہے کہ ٹینسنگ نے ڈوبوز کی کار کو دیکھا کہ اس کی سامنے والی نمبر پلیٹ غائب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹینسنگ نے کار کو روکا اور ان دونوں کے درمیان اس وقت محاذ آرائی شروع ہو گئی جب ڈوبوز نے اپنا ڈرائیونگ لائسنس دکھانے اور کار سے نکلنے سے انکار کیا۔

ٹینسنگ کا کہنا ہے کہ اسے کار نے گھسیٹا جس پر وہ ڈوبوز پر گولی چلانے پر مجبور ہو گیا۔ اس نے ایک ہی گولی چلائی جو ڈوبوز کے سر پر لگی۔

مگر اہلکار کی وردی پر لگے کیمرے کی وڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ 19 جولائی کو ہونے والے واقعے میں کسی قسم کے خطرے سے دوچار نہیں تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ٹینسنگ نے بدھ کو اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا اور اس پر قتل کے الزام کی بنیاد پر تفتیش ہوئی۔

اسے جمعرات کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور اگر اس کا جرم ثابت ہو گیا تو اسے عمر قید ہو سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف سنسناٹی نے بدھ کو ٹینسنگ کو ملازمت سے برخاست کر دیا اور کیمپس بند کر دیا۔ شہر کے حکام نے کہا ہے کہ ڈوبوز کے اہل خانہ نے فردجرم پر پُرامن ردعمل کی اپیل کی ہے۔

سنسناٹی میں 2001 میں اس وقت مظاہرے شروع ہو گئے تھے جب پولیس نے ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ایک 19 سالہ سیاہ فام شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد سنسناٹی پولیس میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی گئیں اور پولیس کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے ایک خودمختار ایجنسی قائم کی گئی۔

گزشتہ سال کے دوران پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام مردوں کی اموات کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے، جن میں ریاست میسوری کے شہر فرگوسن کے مائیکل براؤن، نیویارک سٹی میں ایرک گارڈنر، بالٹیمور میں فریڈی گرے اور جنوبی کیرولائنا کے شہر نارتھ چارلسٹن میں والٹر سکاٹ کی اموات شامل ہیں۔ بالٹیمور اور نارتھ چارلسٹن میں افسران کے خلاف فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG