رسائی کے لنکس

2009ء میں 87بچے پولیو کا شکار ہوئے: سرکاری طبی ذرائع

  • محمد احمد

2009ء میں 87بچے پولیو کا شکار ہوئے: سرکاری طبی ذرائع

2009ء میں 87بچے پولیو کا شکار ہوئے: سرکاری طبی ذرائع


پاکستان میں بچوں کے علاج سے متعلق ذرائع کے مطابق92قومی اور خصوصی مہمات کے باوجود سال 2009ء کے اختتام تک 87بچے پولیو کا شکار ہوئے۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق سال بھر میں صحت کے بنیادی مراکز پر پروگرام سے استفادہ کرنے والوں کی شرح 90کی بجائے 50فی صد سے کم رہی۔

ادارہ کا کہنا ہے کہ ہر سال 20لاکھ بچے خسرہ کا شکار، جب کہ روزانہ 58بچے اموات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

بچوں کی صحت کے حوالے سے قومی دِن کی تقریب کے موقعے پر ڈاؤ یونی ورسٹی آف ہیلتھ میں اطفال کے علاج سے وابستہ ڈاکٹر عائشہ مہناز نے پاکستانی بچوں کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دو تین عشروں میں صحت کے حوالے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔

تقریباً ہزار میں سے 95بچے سالانہ مختلف امراض کا شکار ہو کر پانچ سال سے کم عمر میں ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک ہزار میں سے 80کے قریب بچے پہلی سالگرہ بھی نہیں دیکھ پاتے، خصوصاً نوزائدہ بچوں میں تو بہت ہی بُری صورتِ حال ہے کہ تقریباً 40فی صد بچے ایسے ہیں جو مہینہ بھی پورا نہیں کر پاتے۔

بچوں کے امراض کے ضمن میں اُنھوں نے نمونیا، ڈائریا، خسرے، ملیریا اور دیگر متعدی بیماریوں کا ذکر کیا۔ اُن کے مطابق زیادہ اموات کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں 40فی صد بچے ایسے ہیں جو نامناسب غذا کی وجہ سے موت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔

گنگا رام ہسپتال لاہور میں بچوں کی صحت پر تحقیق سے متعلق پروفیسر عائشہ طارق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اہم مسئلہ دیہی علاقوں میں بر وقت طبی سہولیات کی عدم فراہمی ہے، جب کہ گھروں سے طبی مراکز کی فاصلے بہت دور ہیں ۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کے 1990ء میں منظور کردہ چارٹر کے مطابق ہر بچے کو قانونی تحفظ حاصل ہے کہ اُس کی صحت کی بہتری اور زندگی کی حفاظت کے لیے حکومتی اقدامات کیے جائیں۔

XS
SM
MD
LG