رسائی کے لنکس

ہنگامی صورت حال سے نبرد آزما ہونے پر مامور شعبے کے ترجمان کے مطابق، "سال بھر کے لیے پولیو کے 10 لازمی ڈوز ہوتے ہیں۔ مگر متاثرہ بچے نے صرف سات مرتبہ قطرے لئے، جو مقدار کافی نہیں قوت مدافعت بحال کرنے کے کافی نہیں تھی"

کراچی میں رواں سال کا پہلا پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے، جس کی محکمہٴ صحت سندھ کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، کراچی کے علاقے گڈاپ ٹاؤن کے مکینوں کے بچوں میں پولیو کیس سامنے آیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 34 ماہ کا محمد اعجاز پولیو وائرس کے حملے میں بائیں ٹانگ سے زندگی بھر کے لئے معذور ہو چکا ہے، جب کہ انسداد پولیو مہم کے دوران، متاثرہ بچے کو پولیو کے قطرے بھی پلائےگئے تھے۔

شہر کراچی میں پیر کے روز سامنے آنےوالا پولیو کیس رواں برس کا پاکستان کا پہلا پولیو کیس ہے۔

پولیو کے قطرے پینے کے باوجود اس وائرس کا حملہ کیوں ہوا؟ اس ضمن میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے، ڈائریکٹر صحت سندھ، ظفر اعجاز نے بتایا کہ "پولیو قطرے پینے کے باوجود اس بچے پر پولیو وائرس کا حملہ قوت مدافعت کی کمی کے نتیجے میں ہوا"۔

ظفر اعجاز کے مطابق "متاثرہ بچے کو انفیکشن کی بیماری رہی ہے۔ جب قوت مدافعت کم ہو تو کسی بھی انفیکشن کا حملہ ہو سکتا ہے۔ ساتھ میں وائرل انفیکشن اور قوت مدافعت مزید کم ہو جاتی ہے، جس سے پولیو ہوجانے پر ہڈیاں نہیں مڑتیں۔ اعجاز کے معاملے میں اس کا نچلا دھڑ مفلوج نہیں ہوا، صرف بایاں پاؤں متاثر ہوا ہے، جس کی نتیجے میں بچہ معذور ہوگیا ہے"۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو سندھ کے ترجمان کی جانب سے حاصل ہونےوالی اطلاعات کے مطابق کراچی کی لیبارٹری میں جب پولیو کے ٹیسٹ کے نمونے بھیجے گئے تو وہ مثبت آئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق، متاثرہ بچے نے پولیو کے قطرے تو پئے ہیں مگر اپنی امیونائزیشن کا مرحلہ پورا نہیں کیا۔

ترجمان، عثمان چاچڑ نے وی او اے کی نمائندہ سے گفتگو میں بتایا کہ "سال بھر کے لیے پولیو کے 10 لازمی ڈوز ہوتے ہیں۔ مگر متاثرہ بچے نے صرف سات مرتبہ قطرے لئے، جو مقدار کافی نہیں قوت مدافعت بحال کرنے کے کافی نہیں تھی"

کیا شہر کراچی میں مزید کیسز سامنے آنے کا امکان ہے؟

اس حوالے سے عثمان چاچڑ کا کہنا تھا کہ"پولیو جیسی موذی بیماری کا وائرس کراچی کے مختلف علاقوں کے سیوریج کے پانی کے نمونوں میں موجود ہے، جس کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔ وائرس مختلف علاقوں میں گردش کر رہا ہے اس کی موجودگی سے امکان ہے کہ شہر کراچی سے مزید کیسز سامنے آئیں"۔

انھوں نے کہا کہ "محکمہ صحت کی جانب سے ان علاقوں میں پولیو مہم کو مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ کوشش ہے کہ کوئی مزید نیا کیس سامنے نا آئے۔ کراچی جیسے شہر میں زیادہ دھیان مرکوز کرنے کی ضرورت ہے"۔

پولیو کے قطرے ہر بار پلوائے جائیں

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ والدین کے لئے یہ بات سمجھنا ضروری ہےکہ پاکستان میں جو بھی کمزور بچہ ہے اس پر پولیو کے حملے کا بہت امکان ہے۔ اس لیے، ہر بچے کو انسداد پولیو مہم کے دوران ہر دفعہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائےجائیں۔ یہ سوچ کہ وہ کافی قطرے پی چکا ہے، اب ضرورت نہیں۔ یہ سوچ درست نہیں۔

دوسری جانب، پیر کے روز کمشنر کراچی آصف حیدر کی زیر صدارت پولیو کی پراونشل سکالرز ٹاسک فورس کے جائزہ اجلاس میں آئندہ ہفتے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کیلئے جمعے کے روز مساجد میں پولیو سے بچاؤ کی خوراک پینے کی آگہی کیلئے خصوصی بیان کے انعقاد کا مشترکہ فیصلہ کیا گیا۔

کمشنر کراچی کا مزید کہنا تھا کہ "پولیو خوراک پینے سے بچہ مہلک بیماری اور زندگی بھر کی معزوری سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اسکالرز ٹاسک فورس کے تمام ممبران سے انسداد پولیو مہم کی کامیابی کیلئے مدد کی گزارش سمیت، مذہبی حوالے سے پولیو سے بچاؤ کی خوراک پینے سے انکاری لوگوں کو مذہبی اعتبار سے قائل کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

سال 2015ء میں کراچی سے 7 کیس رپورٹ ہوئے

گزشتہ برس کی بات کی جائے تو سال 2015ء میں پاکستان بھر سے 54 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جسمیں 12 کیسز صرف سندھ بھر سے رپورٹ ہوئے۔ ان کیسز میں 7 کیسز کا تعلق کراچی سے تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں اب تک پولیو کے وائرس کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پولیو مہم کو ہر بار مؤثر انداز میں چلایا جا رہا ہے۔ اعلیٰ حکام پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے میں دل جمعی سے کوشاں ہیں۔

XS
SM
MD
LG