رسائی کے لنکس

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لئے جاری مہم کو مسلسل رکاوٹوں کا سامنا ہے ۔بالائی علاقوں خاص کر قبائلی علاقوں میں اسے بہت عرصہ پہلے مقامی علماء کی جانب سے ’غیراسلامی‘ قرار دیاجاچکا ہے جبکہ روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کی ایک خبر کے مطابق مظفر گڑھ کے ایک عالم نے پولیوٹیم کے خلاف ’جہاد‘ کا اعلان کردیا ہے۔

مظفرگڑھ کے دیہی علاقے خان پور بگا شیر میں گزشتہ ہفتے پولیو کے قطرے پلانے اور انجکشن لگانے والی ٹیم جیسے ہی علاقے میں داخل ہوئی اور اس نے لوگوں کو مہم میں شرکت کی دعوت دی ایک مقامی عالم مولوی ابراہیم چشتی یہ دیکھ کر فوراً علاقے کی مرکزی مسجد گیا اور لاوٴڈ اسپیکر سے یہ اعلان کرنا شروع کردیا کہ پولیو کے قطروں میں ناصرف زہر ملا ہوا ہے بلکہ یہ’ اسلام کے خلاف ‘بھی ہے۔

مولوی ابراہیم چشتی نے بار بار علاقہ مکینوں کو اس بات سے بھی ’ہوشیار‘ کیا کہ اگر پولیو ٹیم زبردستی کسی کو انجکشن لگاتی ہے تو اس ٹیم کے خلاف ’جہاد‘کیا جائے ۔

اتنی مخالفت کے بعد پولیو ٹیم کی مظفر گڑھ سے واپسی یقینی تھی تاہم ٹیم نے مظفرگڑھ کے ہیلتھ ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر (ای ڈی او) ڈاکٹر عاشق حسین سے تمام صورتحال بیان کی جنہوں نے ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیٹر آفیسر یعنی ڈی سی او طاہر خورشید کو بھی اس صورتحال سے مطلع کیا ۔

بلاخر پولیس سے مدد لینے کا فیصلہ ہوا جس نے مولوی ابراہیم چشتی کو حراست میں لینے کے لئے علاقے میں چھاپے مارے تاہم مولوی ابراہیم اس سے پہلے ہی روپوش ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مولوی ابراہیم نے لوگوں میں یہ بات مشہور کردی تھی کہ پولیو مہم ’مغرب کی سازش ‘ ہے جس کا مقصد لوگوں کو لوگوں کو نامرد بنانا ہے۔

XS
SM
MD
LG