رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان میں طویل تعطل کے بعد انسداد پولیو کی مہم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

شمالی وزیرستان میں سلامتی کے خدشات کے وجہ سے انسداد پولیو ٹیموں کی رسائی نہیں تھی۔ حکام کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک کے چار دیہاتوں میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تقریباً اڑھائی سال بعد حکام نے پہلی مرتبہ کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم شروع کی ہے۔

شمالی وزیرستان میں سلامتی کے خدشات کے وجہ سے انسداد پولیو ٹیموں کی رسائی نہیں تھی اور اسی بنا پر وہاں بچوں کو ویکسین نہیں پلائی جا سکی۔

حکام کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک کے چار دیہاتوں میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔ مقامی عہدیداروں اور قبائلیوں کے مطابق مساجد اور حجروں میں بچوں کو اس مرض سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کا دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن جاری ہے اور اس قبائلی علاقے سے چھ لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

تاہم رزمک کے بہت سے دیہاتوں میں لوگ مقیم ہیں۔

طالبان کی طرف سے پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی کے بعد شمالی وزیرستان میں اس مرض سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے تھے۔ لیکن اس قبائلی علاقے تک میڈیا کو انتہائی محدود رسائی حاصل ہے اس لیے حوالے سے مزید معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے ساتھ نکلنے والے بچوں کو انسانی جسم کو اپاہج کرنے والے وائرس سے بچاؤ کے قطرے تواتر سے پلائے جا رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان کا شمار پاکستان کے اُن علاقوں میں ہوتا ہے جو حکام کے مطابق پولیو کے پھیلاؤ کی ایک وجہ ہیں۔ وزیراعظم کے انسداد پولیو سیل کی سربراہ اور رکن قومی اسمبلی عائشہ رضا فاروق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ملک کے تمام علاقوں تک پہنچنے کے لیے حکمت عملی بنائی گئی ہے۔

’’اپنی حکمت عملی بھرپور محنت اور بھرپور توجہ اُن یونین کونسلوں میں دیں گے جہاں پولیو وائرس پر مختلف وجوہات کی وجہ سے قابو نہیں پایا جا سکا۔‘‘

پاکستان میں رواں سال پولیو سے 253 بچے متاثر ہو چکے ہیں، گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران ملک میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے اور اس وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اب تک پاکستان میں رپورٹ ہونے والے زیادہ تر کیسز کا تعلق قبائلی علاقوں اور شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ سے ہے۔

رواں ماہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا تھا کہ وہ انسداد پولیو مہم کی خود نگرانی کریں گے اور وائرس کے خاتمے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں انسانی جسم کو مفلوج کردینے والی بیماری پولیو کے وائرس پر تاحال پوری طرح قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔

دیگر دو ملکوں میں افغانستان اور نائیجیریا شامل ہیں لیکن وہاں رواں سال پولیو کے رپورٹ ہونے والے نئے کیسز کی تعداد پاکستان کی نسبت انتہائی کم ہے۔

XS
SM
MD
LG