رسائی کے لنکس

پانی کے یہ نمونے کراچی کے علاقوں گڈاپ، مچھر کالونی، خمیسو گوٹھ اور گلشن اقبال اور لاہور کے آوٴٹ فال پمپنگ اسٹیشنز سے 12 اپریل کو حاصل کئے گئے تھے

پاکستان کے دو بڑے شہروں، کراچی اور لاہور میں گٹر کے پانی میں پولیو کے وائرس کی موجودگی کے ثبوت ملے ہیں۔

منگل کو جاری ہونے والی عالمی ادارہٴصحت کی ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پانی کے نمونے کراچی کے علاقوں گڈاپ، مچھر کالونی، خمیسو گوٹھ اور گلشن اقبال اور لاہور میں آوٴٹ فال پمپنگ اسٹیشنز سے 12اپریل کوحاصل کئے گئے تھے۔

پاکستان کے نجی ٹی وی ’جیو تیز‘ اور انگریزی کے موٴقر اخبار ’ایکسپریس ٹریبیون‘ نے اس خبرکو نمایاں کوریج دی ہے۔ ان رپورٹس میں عالمی ادارہٴصحت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جب ادارے نے پانی کی چانچ کی تو اس میں پولیو وائرس پایا گیا۔

رپورٹ میں اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ پشاور سے لئے گئے گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ حالانکہ، عالمی ادارہٴصحت کا کہنا ہے کہ پولیو سے متعلق سامنے آنے والے 90فیصد کیسز کا تعلق پشاور سے ہوتا ہے۔

گزشتہ روز بھی کراچی اور جنوبی وزیرستان میں پولیو کے دونئے کیسز سامنے آئے تھے جس کے بعد رواں سال کے پہلے 5ماہ میں سامنے آنے والے کیسوں کی مجموعی تعداد 61ہوگئی ہے۔ ان میں سے 47کیسز وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں، نو خیبر پختونخواہ اور پانچ کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے۔

سندھ سے رپورٹ ہونے والے پانچ کیسز میں سے تین کا تعلق گڈاپ ٹاوٴن کراچی سے ہے جہاں پولیو کے رضاکاروں کو قطرے پلانے کے لئے علاقے میں داخل ہی نہیں ہونے دیا جاتا۔
XS
SM
MD
LG