رسائی کے لنکس

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ

  • روشن مغل

پاکستانی کشمیر کی قانون ساز اسمبلی

پاکستانی کشمیر کی قانون ساز اسمبلی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 21 جولائی کو ہونے جا رہے ہیں جس کے لیے سیاسی سرگرمیاں زور و شور سے شروع ہو چکی ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف، حزب مخالف کے رہنما عمران خان، بلاول بھٹو زرداری اور لیاقت بلوچ اپنی اپنی جماعتوں کے امیدواروں کی انتخابی مہم کے لیے کشمیر کے دورے کر چکے ہیں۔

انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کر نے کے لیے سیاسی جماعتوں میں جوڑ توڑ بھی عروج پر ہے۔

عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور پاکستانی کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق کی مقامی جماعت مسلم کا نفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد ہو چکا ہے جبکہ برسراقتدار پاکستان پیپلز پارٹی اور حزب مخالف کی مسلم لیگ نواز ان انتخابی دوڑ میں اپنے اپنے طور پر شریک ہیں۔

تحریک انصاف پہلی جب کہ مسلم لیگ نواز دوسری بار یہاں پارلیمانی انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں۔

قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے عہد نامے پر دستخط شرط ہیں جس کی وجہ سے کشمیرکی خودمختاری کی حامی جماعتیں گزشتہ کئی انتخابات کا بائیکاٹ کرتی چلی آرہی ہیں۔

معرو ف کشمیری تجزیہ نگارارشاد محمود کہتے ہیں کہ گذشتہ انتخابات کی نسبت اس بار انتخابات زیادہ دلچسپ ہوں گے کیونکہ اس میں ایک نئی جماعت (تحریک انصاف) بھی حصہ لے رہی ہے اور اس نے ایک ریاستی جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد بھی کر لیا ہے۔

تاہم اُن کا کہنا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آئینی قدغن (الحاق پاکستان کا حلف لینا) قابل افسوس ہے۔

"اس کی ضرورت نہیں تھی، 1974ء سے یہ چلا آ رہا ہے، ہماری سیاست کا ایک بڑا طبقہ ہے جو محروم ہو جاتا ہے اس کو ہم باہر نکال دیتے ہیں اور وہ سیاسی میدان میں آتا ہی نہیں۔ اگر وہ سیاسی میدان میں آئے تو ان پتا چلے کہ ان میں کتنا زور ہے اور وہ کیا کچھ کر سکتے ہیں، مگر افسوس انھیں ایسا کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا۔"

اس قانون ساز اسمبلی کے 29 انتخابی حلقے پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکے تمام دس اضلاع جبکہ 12 حقلے پاکستان کے چاروں صوبوں میں مقیم بھارت کے زیر انتظام وادی کشمیر اور جموں سے 1947ء میں ہجرت کر کے آنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔

کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع علاقہ ہے جس کا ایک حصہ بھارت جب کہ دوسرا پاکستان کے زیر انتظام ہے۔

XS
SM
MD
LG