رسائی کے لنکس

بلاگ: سیاست میں سب چلتا ہے


بلاگ: سیاست میں سب چلتا ہے
بلاگ: سیاست میں سب چلتا ہے

پی پی پی اور ق لیگ کے اتحاد کو ناقدین آج تک غیر نظریاتی کہتے ہیں۔ جب صدر آصف علی زرداری نے ق لیگ کو حکومتی اتحاد میں شامل کیا تو اُن پر کافی تنقید کی گئی۔ بعض نے کہا کہ وہ قاتلوں کے ساتھ مل گئے ہیں اور بعض نے اِسے مطلب کا اتحاد کہا۔ مگر سیاست میں سب چلتا ہے۔

سنہ1994 میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے پنجاب میں نواز شریف کا زور توڑنے کے لیے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو یہ ذمہ داری دی تھی کہ وہ چوہدری برادران کو پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کےلیے آمادہ کریں، اور کہا تھا کہ اختلاف کیسا بھی ہو ختم ہو سکتا ہے۔ سیاست میں سب چلتا ہے۔

بیرسٹر سلطان محمود کے مطابق وہ محترمہ کے کہنے پر چوہدری شجاعت حسین سے ملے اور انہیں یہ پیشکش کی کہ اگر وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں تو پنجاب انہیں دے دیا جائے گا۔ چوہدری صاحب نے بیرسٹر صاحب سے کہا کہ وہ پرویز الہی سے بات کر کے جواب دیں گے اور بیرسٹر صاحب کو اگلے دن کھانے پر اپنے گھر بلایا۔

کھانے پر جب بات چیت ہوئی تو پرویز الہی نے بیرسٹر صاحب سے یہ کہہ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہونے سے معذرت کر لی کہ چوہدریوں اوربھٹو خاندان کا جھگڑا سیاست کا نہیں قتلوں کا ہے۔

صدر زرداری قتلوں کا جھگڑا ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے، کیونکہ وہ بہت کھلے ڈلے آدمی ہیں۔

XS
SM
MD
LG