رسائی کے لنکس

جانسن جو کہ پچھلے ہفتے ہونے والے ریفرنڈم میں یورپی یونین کی رکنیت سے علیحدہ ہونے کی مہم کے روح رواں تھے، وزیر اعظم بننے کے خواب سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اُن پر اُنہی کے دوست، مائیکل گوو نے گھات لگا کر نشانہ لیا

روزنامہ ’دی ڈیلی میل‘ کے صفحہٴ اول پر شہ سرخی جمائی گئی ہے ’ٹوری ڈے آف ٹریچری‘۔ یہ اخبار بااثر متوسط طبقے کا مقبول برطانوی روزنامہ ہے، جس نے یورپی یونین سے علیحدگی کی مہم میں سرگرمی سے حصہ لیا۔

بورس جانسن کی جانب سے جمعرات کا حیران کُن بیان جس میں لندن کے سابق میئر نے کہا ہے کہ وہ حکمراں اعتدال پسند، کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کے انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے، اخبار نے کہا ہے کہ سبک دوش ہونے والے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی جگہ لینے کی سیاسی لڑائی ’’انتہائی وحشی قتل عام‘‘ میں بدلتی جا رہی ہے، جسے مارگریٹ تھیچر کے دور کے بعد سے نہیں دیکھا گیا۔

برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کے بعد، اعتدال پسند سیاستداں ایوانِ زیریں (ہاؤس آف کامنز) میں چائے خانے کے ماحول میں ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں لگے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اتحاد ٹوٹ رہے ہیں، جب کہ سیاست دان اپنی ذاتی ترجیحات کو اولیت دینے کی تدابیر سوچ رہے ہیں، جس طرح کی دغابازی پر مبنی سیاسی چالبازیاں شیکسپیئر کے ڈراموں میں عام ہوا کرتی تھیں۔

گھات لگا کر نشانہ لینا

جانسن جو کہ پچھلے ہفتے ہونے والے ریفرنڈم میں یورپی یونین کی رکنیت سے علیحدہ ہونے کی مہم کے روح رواں تھے، وزیر اعظم بننے کے خواب سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اُن پر اُنہی کے دوست، مائیکل گوو نے گھات لگا کر نشانہ لیا، جو پارلیمانی رُکن ہیں، جنھوں نے خود اِس عہدے کے امیدوار ہونے کا اعلان کیا، حالانکہ وہ جانسن کی پارٹی کی جانب سے پارٹی قیادت کے لیے چلائی جانے والی مہم کے منتظم تھے۔

گوو کے فیصلے پر جانسن کے والد، اسٹینلی نے کہا کہ ’’یو ٹو بروٹس‘‘۔ اُنھوں نے ’جولیئس سزر‘ کا حوالہ دیا، جنھوں نے شیکسپیئر کے ڈرامے میں اپنا ہی دوست، بروٹس چُھری گھونپ دیتا ہے۔

امیدوار بننے کے اپنے اعلان میں، گوو نے کنزرویٹو پارٹی کے قانون سازوں کے حلقوں میں یورپی یونین سے علیحدگی کے سوال پر پھوٹ ڈال دی ہے، جس پارٹی کے 150000 ارکان دو امیدواروں کا چناؤ کریں گے، جب کہ میدان میں قیادت کے خواہش مندوں کی کل تعداد نصف درجن ہے۔

پارٹی کی قیادت کی دوڑ میں شرکت کے اعلان کے بعد گوو نے یہ بات یقینی بنا دی ہے کہ جانسن معروف، تھریسا مے کو شکست نہیں دے پائیں گے، جب قدامت پسند پارٹی کے قانون ساز رائے دہی میں حصہ لیں گے۔ اس سے پہلے کہ جانسن اپنی نامزدگی کا اعلان کریں، گوو نے پہل کی، جس دغابازی کا سابق میئر کو شدید صدمہ ہوا۔

لیبر پارٹی نااتفاقی کا شکار

دوسری جانب، لیبر پارٹی میں بھی پھوٹ کا عمل جاری ہے، ایسے میں جب پارٹی کے قائد جیریمی کوربن اُن کوششوں کو جھٹک رہے ہیں جن میں اُن سے پارٹی چھوڑنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ لیبر پارٹی کے یہودی قانون ساز ’ہاؤس آف کامنز‘ کی ایک تقریب سے اٹھ کر چلے گئے جب کوربن کے خلاف اپنے ایک ساتھی پر یہودیت کے خلاف جملے کسے گئے۔

XS
SM
MD
LG