رسائی کے لنکس

خصوصی عدالتوں کے قیام کے لئے آئین میں ترامیم کی جائیں گی اور اسی کے مطابق قانون سازی بھی ہوگی۔ اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ خصوصی عدالتوں کی مدت دو سال ہوگی۔ خصوصی عدالتوں کی سربراہی فوجی افسران کریں گے

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں بدھ کو 10گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں فوجی افسران پر مشتمل خصوصی عدالتیں قائم کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے اور اس حوالے سے ایک متفقہ قرار دار بھی پیش کردی گئی ہے۔

مذکورہ قرار داد 18نکات پر مشتمل ہے جن کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنا اور انتہاپسندی کو ختم کرنا ہے۔ اس حوالے سے بدھ کی رات ایک اعلامیہ بھی جاری ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ خصوصی عدالتوں کے قیام کے لئے آئین میں ترامیم کی جائیں گی اور اسی کے مطابق قانون سازی بھی ہوگی۔

اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ خصوصی عدالتوں کی مدت دو سال ہوگی ۔ خصوصی عدالتوں کی سربراہی فوجی افسران کریں گے جبکہ جلد انصاف کے لئے مقدمات کا فیصلہ کم از کم مدت میں کیا جائے گاتاکہ دہشت گردوں یا مجرمان کو فوری سزا دی جاسکے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فاٹا میں انتظامی اور ترقیاتی اصلاحات کی جائیں گی، دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے پر توجہ دی جائے گی جبکہ نیکٹاکو فعال اور موثر بنایا جائے گا۔ کالعدم تنظیموں کو دوسرے ناموں سے کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ کسی کو بھی مسلح جتھے بنانے نہیں دیئے جائیں گے۔

ابتداء میں ایم کیو ایم اس قرار داد پر عمل کرنے کیلئے رضامند نہیں تھی تاہم حکومت کی جانب سے جماعت کی قیادت کو مطمئن کرایا گیا جس کے بعد متحدہ نے بھی اس قرارداد کی حمایت کردی۔

اجلاس کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کو غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے لہذا دہشت گردی کے خلاف غیر معمولی ہی اقدامات کرنا ہوں گے۔

پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمن، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ،وفاقی وزراء اور دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم سندھ کے وزیراعلیٰ ان دنوں بیمار ہیں اس لئے وہ اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی (میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے مقرر کردہ نمائندوں نے ان کی جانب سے شرکت کی۔

علاوہ ازیں فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

XS
SM
MD
LG