رسائی کے لنکس

خورشید شاہ نے کہا کہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کی کوششوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔ ’’ڈریں سازش ابھی بھی ہو رہی ہے، یہ نا سمجھیں کہ ہم نے جیت لیا ہے۔ سیاست اس کا نام ہے جس میں تحمل ہو، بردباری ہو، جذبات سے عاری ہو۔‘‘

پاکستانی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بدھ کو دوسرے روز بھی جاری رہا، جس میں احتجاج کرنے والی جماعت تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی نے بھی شرکت کی۔

عمران خان نے کہا تھا کہ اُن کی جماعت کے اراکین پارلیمان بدھ کو آخری مرتبہ پارلیمنٹ ہاؤس جائیں گے اور اپنی جماعت سے متعلق اُٹھائے گئے سوالات کے بارے میں اپنا موقف پیش کریں گے۔

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے طویل خطاب کے اختتام پر کہا کہ اُن کی جماعت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

’’تعمیری ذہن لے کر آئے ہیں، مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، معاملے کو حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جمود توڑنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

اگرچہ شاہ محمود قریشی کو کئی ممبران نے رکنے کا کہا لیکن وہ اپنے خطاب کے بعد تحریک انصاف کے دیگر اراکین کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس سے چلے گئے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ احتجاج کرنے والی جماعت کے قانون سازوں کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں آنا جمہوریت کی کامیابی ہے۔

تاہم اُنھوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کی کوششوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔

’’ڈریں سازش ابھی بھی ہو رہی ہے، یہ نا سمجھیں کہ ہم نے جیت لیا ہے۔ سیاست اس کا نام ہے جس میں تحمل ہو، بردباری ہو، جذبات سے عاری ہو۔‘‘

قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ نے وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

’’اب یہ پارلیمنٹ کے اختیار میں ہے، وزیراعظم استعفیٰ نہیں دے سکتے ہیں۔ آپ نے اگر بات کرنی ہے تو اس پوری پارلیمنٹ سے بات کریں۔‘‘

اُدھر اس معاملے کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی سربراہی میں ایک سیاسی جرگہ سرگرم ہے جس نے پارلیمان کے سامنے احتجاج کرنے والی دونوں جماعتوں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی۔

سراج الحق نے کہا کہ دونوں فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

’’یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ پی ٹی آئی اور عوامی تحریک نے دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے ہماری درخواست کو تسلیم کیا ہے۔۔۔۔ یہ درخواست ہم دنوں جانب کرتے ہیں کہ اُن کو کچھ نا کچھ قربانی دینا ہو گی۔‘‘

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان مئی 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

عوامی تحریک نظام کی تبدیلی چاہتی ہے اور اُس کے مطالبات میں وزیراعظم کے استعفے کے علاوہ اسمبلیوں کی تحلیل بھی شامل ہے۔

حکومت اور پارلیمان میں شامل جماعتیں یہ کہہ چکی ہیں کہ غیر آئینی مطالبات کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG