رسائی کے لنکس

جماعت اسلامی کے امیدوار راشد نسیم نے صبح سے شام تک مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا، یہاں تک کہ دوپہر کا کھانا بھی شام کے اوقات میں علاقے کی مسجد قبا میں کھایا؛ جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار عمران اسماعیل نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی کی دعوت پر ایک ساتھ شام کی چائے پی

کراچی کے صرف ایک حلقے میں ضمنی انتخاب کے لیے جمعرات کو صبح آٹھ بجے پولنگ شروع ہوئی، جبکہ پولنگ اسٹیشن پر سیکورٹی اہلکاروں نے بدھ کی سہ پہر سے ہی ڈیوٹی سنبھال لی تھی۔

الیکشن کمیشن کے عملے نے بھی کئی گھنٹے پہلے سخت سیکورٹی میں انتخابی سامان وہاں منتقل کردیا تھا۔ سامان زیادہ تر بسوں کے ذریعے پہنچایا گیا۔

حلقے کے بہت سے پولنگ اسٹیشنز ایسے تھے جہاں صبح ہی سے لمبی قطاریں لگ گئی تھیں۔ ووٹرز کی سہولت کے لئے متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی نے جگہ جگہ اپنے انتخابی کیمپس لگا رکھے تھے۔ کچھ مقامات تو ایسے بھی تھے جہاں کئی کئی کیمپس برابر برابر قائم کئے گئے تھے۔

لوگوں کی بڑی تعداد نے ان کیمپس کا دورہ کیا۔ اپنے ووٹ کی معلومات حاصل کی اور کچھ نے ووٹ ڈالنے کا طریقہ بھی ذہن نشین کیا۔ کیمپس پر مرد اور خواتین ووٹرز کی الگ الگ لسٹیں موجود تھیں۔

عزیزآباد کا سب سے اہم پولنگ اسٹیشن کمپری ہنسیو ہائی اسکول تھا۔ وی او اے کے نمائندے کو میڈیا، ووٹرز، پولیس، رینجرز اور نوجوانوں کا سب سے زیادہ رش یہیں دیکھنے میں آیا۔ یہاں ڈیڑھ گھنٹے میں 90مرد اور 52 خواتین نے ووٹ کاسٹ کئے۔

یہاں وہ نوجوان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے جو ابھی ووٹ دینے کی مقررہ عمر کو بھی نہیں پہنچے تھے۔

اسی حلقے میں صبح کے اوقات میں پولنگ اسٹیشن نمبر172 اور 173کو گرلز اسکول سے بوائز اسکول میں منتقل کردیا گیا جس سے متعدد افراد کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی افراد کو میڈیا کے نمائندوں نے پولنگ اسٹیشنز کا درست پتہ بتایا۔

جماعت اسلامی کے امیدوار راشد نسیم نے صبح سے شام تک مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا یہاں تک کہ دوپہر کا کھانا بھی شام کے اوقات میں علاقے کی مسجد قباء میں کھایا جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما عمران اسماعیل نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی کی دعوت پر ایک ساتھ شام کی چائے پی۔

پی ٹی آئی نے حلقے میں صرف ایک جگہ اپنا انتخابی کیمپ قائم کیا تھا اور وہ جگہ کریم آباد کی ایک مارکیٹ تھی۔ جب وی او اے کا نمائندہ وہاں پہنچا تو وہاں بہت سے کارکن موجود تھے۔ تاہم، دوسری جماعتوں کے کیمپس کی طرح وہاں ووٹرز نسبتاً کم تھے۔

دو پولنگ اسٹیشنز عزیز آباد کے الطاف حسین حالی اسکول اور ابراہیم علی بھائی اسکول میں بھی قائم کئے گئے تھے جہاں یہاں میڈیا کے نمائندوں کو اندر جانے سے روکنے پر کچھ دیر کے لئے بدمزگی پیدا ہوئی۔

پولنگ اسٹیشنز کے باہر خواتین ووٹرز کے ساتھ ساتھ بزرگوں کی بھی بڑی تعداد ووٹ کاسٹ کرتی نظر آئی۔ ان میں بعض افراد کی عمریں 60 اور 70سال سے بھی زیادہ تھیں۔ کچھ معذور افراد کو بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

پولنگ اسٹیشنز میں موبائل سے ویڈیو بنانے پر پابندی کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال پر بھی پابندی عائد تھی تاہم دستگیر کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ایک خاتون پولنگ ایجنٹ نے ٹیلی فون استعمال کیا تو سیکورٹی اہلکاروں نے اسے فوری طور پر اپنے قبضے میں لے لیا جبکہ ایک نوجوان کو ویڈیو بناتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا۔

متحدہ کے امیدوار کنور نوید جمیل اور پی ٹی آئی رہنما عمران اسماعیل نے بھی علاقے کے مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا۔ ایس پی، کور کمانڈر اور ڈی جی رینجرز نے بھی ضلع وسطی کے مختلف پولنگ اسٹیشنزپر جاکر وہاں سیکورٹی کا جائزہ لیا۔

کچھ جگہوں پر ایک ایک کمرے میں کئی کئی پولنگ بوتھس بنائے گئے تھے جس سے ووٹنگ میں تاخیر ہوئی ۔ ڈاکٹر فاروق ستار اور عارف علوی، دونوں رہنماوٴں نے اپنی اپنی پریس کانفرنسیس میں اس عمل پر سخت تنقید کی۔

پولنگ اسٹیشنز کے اندر سیاسی بیان یا گفتگو کرنا منع تھا، اس کی خلاف ورزی پر رینجرز نے ایمکیوایم کے رکن قومی اسمبلی محبوب عالم کو اس عمل سے سختی سے روکا۔

عمران اسماعیل کی پولنگ اسٹیشن کے دورے کے موقع پر ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی۔

الیکشن کمیشن کو جو شکایات موصول ہوئیں ان میں زیادہ تر کا تعلق انگوٹھوں کے نشانات اور طویل انتظار سے تھا۔ پولنگ اسٹیشن نمبر8میں خواتین ووٹرز اورپولیس اہلکاروں میں تکرار کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

عزیزآباد پولنگ اسٹیشن پر ایمکیوایم اورپی ٹی آئی کے کارکن ایک دوسرے کے سامنے آکھڑے ہوئے اور نعرے بازی کی۔ تاہم، سیکورٹی اداروں نے صورتحال کو کمال مہارت سے سنبھالا۔

اسی طرح، ایف سی ایریا میں سراج الدولہ کالج پولنگ اسٹیشن پر جماعت اسلامی کے امیدوار راشد نسیم کو بھی متحدہ کے کارکنوں کی جانب سے شدید نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا۔

اس بار رینجرز کو بعض خصوصی اختیارات بھی حاصل تھے ۔ انہی میں سے ایک اختیار کے تحت رینجرز نے دہلی اسکول کے پولنگ اسٹیشن سے ایک پریذائیڈنگ آفیسر اور شریف آباد و غریب آباد سے دو اسسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسرز اور ریحان نامی ایک شخص کو جعلی ووٹ ڈالنے کے الزام میں حراست میں لے لیا اور موقع پر سزائیں سنائیں۔

الیکشن کمیشن سے متحدہ نے پولنگ کا وقت بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا تاہم الیکشن کمیشن نے مقررہ وقت پر ہی پولنگ ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن جو ووٹرز پولنگ اسٹیشنز کے اندر موجود تھے وہ پانچ بجے کے بعد ہی ووٹ کاسٹ کرسکے۔

XS
SM
MD
LG