رسائی کے لنکس

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات

  • روشن مغل

انتخابات میں کل 26 سیاسی جماعتیں حصہ لے رہیں جب کہ 204 امیدوار آزاد حیثیت میں میدان میں تھے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے دسویں انتخابات کے لیے جمعرات کو ووٹ ڈالے گئے۔ قانون ساز اسمبلی کی کل 41 نشستوں کے لیے 26 لاکھ سے زائد اہل ووٹر ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولنگ اسٹیشنوں پر فوج کے اہلکار بھی تعینات رہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں 26 سیاسی و مذہبی جماعتوں کے 219 اُمیدواروں کے علاوہ 204 آزاد اُمیدوار بھی میدان میں تھے۔

قانون ساز اسمبلی کی پانچ سالہ مدت 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔

قانون ساز اسمبلی کے 29 انتخابی حلقے پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکے تمام دس اضلاع جبکہ بارہ حلقے پاکستان کے چاروں صوبوں میں مقیم بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے کشمیریوں کے لیے مختص ہیں۔

پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے اُمیدواروں کی تعداد ان انتخابات میں سب سے زیادہ تھی اور بیشتر حلقوں میں انھی جماعتوں کے اُمیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔

انتخابات سے قبل بھی ان ہی سیاسی جماعتوں کی قیادت نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں بھرپور انتخابی مہم بھی چلائی۔

کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس غلام مصطفیٰ مغل نے مظفرآباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ یہ پہلی مرتبہ فوج کی نگرانی میں ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ عام انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے تمام 41 انتخابی حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کیے، جب کہ مسلم لیگ (ن) نے 38 اور پہلی بار کشمیر کے انتخابات میں بھرپور حصہ لینے والی جماعت تحریک انصاف نے 32 حلقوں میں اپنے اُمیدوار کھڑے کیے تھے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی جماعت مسلم کانفرنس صرف 23 امیدوار میدان میں لا سکی۔

ووٹنگ کا عمل بالعموم پرامن رہا، تاہم بعض مقامات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان تلخ کلامی کی بھی اطلاعات ملیں اور بعض حلقوں میں مختلف وجوہات کی بنا پر پولنگ کا عمل تاخیر سے شروع ہوا۔

پولنگ کے دوران امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے فوج کے 22 ہزارجبکہ فرنٹیئر کور اور پنجاب کانسٹیبلری کے نو ہزار اہلکاروں کے علاوہ پولیس کے بھی چھ ہزار افسران اور جوان تعینات کیے گئے تھے۔

یہ انتخابات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ دنوں میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے علیحدگی پسند کمانڈر اور اس کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں جھڑپیں ہونے سے 45 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور کشمیر کے اس حصے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

XS
SM
MD
LG