رسائی کے لنکس

ترکی: صدارتی نظام سے متعلق ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ


ترکی میں اتوار کو ہونے والے ایک تاریخی ریفرنڈم میں لوگ ووٹ ڈال رہے ہیں جس میں ان سے پوچھا گیا ہے کہ آیا صدر کے اختیارات میں اضافہ کرنے کی مجوزہ اصلاحات کی توثیق کی جائے یا نہیں۔

اگر اس ریفرنڈم میں "ہاں" کے حق میں زیادہ ووٹ ڈالے جاتے ہیں تو اٹھارویں آئینی ترمیم ترکی کے پارلیمانی نظام حکومت کو صدارتی نظام حکومت میں تبدیل کر دے گی جس کے بعد وزیراعظم کا عہدہ ختم ہو جائے گا اور صدر طیب اردوان کو وسیع تر اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔

صدر اردوان نے اس ریفرنڈم کروانے کے اعلان کے بعد "ہاں" کے حق میں چلائی جانے والی مہم کے دوران کہا تھا کہ ترکی میں مجوزہ صدارتی نظام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ملک میں کوئی کمزور حکومت نا ہو۔ ان کا اصرار ہے کہ سیاسی استحکام سے ملک میں پائیدار خوشحالی آئے گی۔

دیارباقر میں ایک خاتون ووٹ ڈال رہی ہیں
دیارباقر میں ایک خاتون ووٹ ڈال رہی ہیں

تاہم حزب مخالف کے بعض راہنماؤں کا موقف ہے کہ یہ ترامیم ایک آمرانہ شخصی حکومت کا سبب بنیں گی اور یہ بات یقینی ہو جائے گی کہ صدر اردوان 2029 تک بغیر کسی 'چیک اینڈ بیلنس' کےحکومت میں رہ سکتے ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے لوگوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کو سلب کیا ہے۔

مشرقی ترکی میں ووٹنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہوا اور یہ شام چار بجے تک جاری رہا جبکہ ملک کے گنجان آباد مغربی علاقوں میں یہ عمل صبح آٹھ بجے شروع ہو کر شام پانچ بجے تک جاری رہا۔ آٹھ کروڑ آبادی کے ملک میں تقریباً پانچ کروڑ پچاس لاکھ افراد بطور ووٹر رجسٹر ہیں۔

اگر ریفرنڈ م میں " ہاں" کے حق میں زیادہ ووٹ ڈالے جاتے ہیں تو صدر کو وزرا اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے تقرر کے ساتھ ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں نصف ارکان کو تعینات کرنے کا اختیار مل جائے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ انہیں ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو جائے گا اور اس کے علاوہ ملک کے صدر کے عہدے کی مدت پانچ سال ہو جائے گی اور وہ دوسری بار بھی انتخاب میں حصہ لینے کا اہل ہو گا۔ یہ ترامیم آئندہ انتخاب کے بعد موثر ہو جائیں گی جن کا انعقاد 2019 میں طے ہے۔

ریفرنڈم سے پہلے ملک میں چلائی جانے والے مہم نہایت متنازع اور یکطرفہ رہی اور " ہاں" کے حق میں مہم چلانے والوں کو ٹی وی چینل پر زیادہ وقت دیا جاتا رہا جبکہ "نا" کے حق میں مہم چلانے والوں نے اس بات کی شکایت کی کہ انہیں ڈاریا اور دھمکایا گیا۔

ملک کے حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت نے بھی ایسے لگ بھگ ایک سو واقعات کا ذکر کیا جن میں ان کی مہم میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی جبکہ مارپیٹ اور حراست میں رکھنے کی دھمکیوں کی بھی شکایات کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG