رسائی کے لنکس

’ڈی این اے‘ کا استعمال کرتے ہوئے استغاثہ نے ثابت کیا کہ جیفز کے ازدواج میں ایک 15برس کی ایک لڑکی شامل تھی جِس نے ایک بچے کو جنم دیا، اور ایک آڈیو رکارڈنگ سنائی گئی جِس سے پتا چلا کہ وہ ایک 12سالہ لڑکی کے ساتھ جسمانی زیادتی کا مرتکب ہوا

ایک امریکی عدالت نے ایک سے زیادہ شادیوں کے حامی فرقے سے تعلق رکھنے والے لیڈر، وارن جیفز کو دو بچیوں سے جنسی تعلقات رکھنے کے الزام میں، جو اُن کے بقول اُن کی’ روحانی‘ دلہنیں تھیں، عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

امریکہ کی جنوب مغربی ریاست ، ٹیکساس کی جیوری نے منگل کو اپنا فیصلہ سنانے سے قبل مشاورت کے لیے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت لیا۔

ملزم پر مقدمےمیں تجویز کردہ سب سے زیادہ سزا سنائی گئی۔ انتہائی درجے کی جسمانی زیادتی پر اُنھیں عمر قید کی سزا دی گئی جب کہ جسمانی زیادتی کے الزام میں اضافی 20برس کی سزا دی ہے۔

گذشتہ ہفتے جیفز کو دوالزامات پر سزا ہوچکی ہے۔’ ڈی این اے‘ کا استعمال کرتے ہوئے، استغاثہ نے ثابت کیا کہ جیفز کے ازدواج میں ایک 15برس کی لڑکی شامل تھی جس نے ایک بچے کو جنم دیا، اور ایک آڈیو رکارڈنگ سنائی گئی جس سے پتا چلا کہ وہ ایک 12سالہ لڑکی کے ساتھ جسمانی زیادتی کا مرتکب ہوا۔

پچپن سالہ جیفز کا ایک قدامت پسند فرقے سے تعلق ہے جو کثیر ادواج میں یقین رکھتا ہے اور جسے ’فنڈامنٹلسٹ چرچ آف جیسس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مقدمے کے دوران اُنھوں نے استفسار کیا کہ اُن کے مذہبی عقائد کی بنا پر اُن سے امتیاز برتا جارہا ہے۔

سنہ 2008میں جیفز کے ٹیکساس کےگھر کے احاطے پر پولیس نےکارروائی کرتے ہوئے 450سے زائد بچوں کو برآمد کیا تھا اور الزام لگایا گیا کہ نابالغ لڑکیوں کو زیادہ عمر والے مردوں سے شادی پر مجبور کیا جاتا تھا۔ ٹیکساس سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ جسمانی تشدد کے بارے میں ریاست کےدائر کردہ دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG