رسائی کے لنکس

ایک رپورٹ کے نتائج سے اس حقیقت کی وضاحت ہوتی ہےکہ کیسے غریب ترین علاقوں میں رہنے والی لڑکیان دنیا کی سب سے زیادہ پسماندہ مخلوق ہوتی ہیں، جنھیں اپنی بقا اور ترقی کے لیے منفرد رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے

ایک بین الاقوامی خیراتی ادارے کی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ دنیا بھر میں نوجوان لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد زیادتی کے خوف کے احساس کے زیر اثر زندگی گزارتی ہیں، اور ان میں سے بہت ساری لڑکیاں یہ سوچتی ہیں کہ انھیں اپنی زندگی کا کوئی بھی حق حاصل نہیں ہے۔

لڑکیوں کے حقوق اور باختیار بنانے کے حوالے سے ترقی کے شعبے میں کی جانے والی ایک بڑی تحقیق کا انعقاد 'پلان انٹرنشنل‘ کی جانب سے ’کیوں کہ میں ایک لڑکی ہوں مہم' کے عنوان پر کیا گیا تھا۔

مطالعے سے حاصل ہونے والے نتائج سے اس حقیقت کی وضاحت ہوتی ہے کہ کیسے غریب ترین علاقوں میں رہنے والی لڑکیان دنیا کی سب سے زیادہ پسماندہ مخلوق ہوتی ہیں، جنھیں اپنی بقا اور ترقی کے لیے منفرد رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے اور ایسا سلوک صرف اس لیے ہوتا ہے کیونکہ وہ لڑکیاں ہیں۔

ہیئر اوور وائسسز 'Hear Our Voices‘ کے نام سے شائع ہونے والی رپورٹ میں ایشیا، جنوبی امریکہ اور افریقہ سمیت 11 ملکوں کے 12 سے 16 برس کی 7,000 سے زائد نوجوان لڑکیوں سے ان کے روزمرہ کے تجربات اور اسکول میں صنفی مساوات کے بارے میں براہ راست سوالات پوچھے گئے۔

تحقیق میں شامل ہزاروں لڑکیوں نے بتایا کہ وہ روزمرہ کی ناانصافیوں اور جنسی تشدد کے حوالے سے اظہار کرنے میں شرمندگی محسوس کرتی ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ حالیہ برسوں میں لڑکیوں کے حقوق میں بہتری کے باوجود عدم تحفظ، زیادتی اور خوف بڑے پیمانے پر پھیل رہا ہے۔ سروے میں شامل بنگلہ دیش کے ایک علاقے کی80 فیصد لڑکیاں اور ایکواڈور سے تعلق رکھنے والی 77 فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ وہ کبھی بھی نہیں یا پھر شاز و نادر ہی خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بہت سی ایسی لڑکیاں ہیں جنھیں ایک ایسے مستقبل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس پر ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا ہے، خاص طور پر لڑکیاں یہ نہیں جانتی کہ کس شخص سے ان کا بیاہ رچایا جائے گا اور کتنی عمر میں وہ بچے کی ماں بن جائے گی۔

40 فیصد نوجوان لڑکیوں نے بتایا کہ اس بات کا امکان نا ہونے کے برابر ہے کہ ان کی شادی کا فیصلہ ان سے پوچھ کر کیا جائے گا، جبکہ 52 فیصد لڑکیوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتی ہیں کہ کس عمر میں انھیں ماں بننا پڑے گا۔

شرکاء لڑکیوں کی ایک تہائی سے زائد تعداد نے بتایا کہ انھیں تنہا اسکول جانے سے ڈر لگتا ہے، ایسے میں وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں جبکہ ایک چوتھائی سے زائد لڑکیوں نے بتایا کہ وہ جنسی حملے کے خوف سے اسکول کا بیت الخلاء استعمال نہیں کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ہر 3 میں سے 1لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ لڑکوں اور مردوں کے سامنے بات کرنے یا اپنے خیالات کا اظہار نہیں کر سکتیں۔ تاہم، 49 فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ لڑکوں کی موجودگی کے باوجود وہ کلاس کے ہر کام میں بھرپور طریقے سے حصہ لیتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک طرف تو غریب لڑکیاں یہ سمجھنے لگیں ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کا کوئی حق نہیں رکھتی ہیں تو دوسری جانب ان میں سے کچھ لڑکیوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے حقوق حاصل کرنے کی مستحق نہیں ہیں۔

پلان انٹرنشنل کی چیف ایگزیکٹیو تانیہ بیرن نے کہا کہ نتائج سے پتا چلتا ہے کہ غریب لڑکیاں جنھیں گھر کے کاموں کی وجہ سے اسکول جانے سے روک دیا جاتا ہے یا پھر جنسی حملے اور زیادتی کے خوف کی وجہ سے انھیں ہر دن محدود کیا جا رہا ہے۔ خیراتی اداروں کو ایسی لڑکیوں کے خدشات سننے چاہئیں۔ اگرچہ پہلے کے مقابلے میں حالات بہتر بتائے جاتے ہیں۔ لیکن، لڑکیوں کو اپنی بات سنانے کے لیے ایک محفوظ مقام فراہم کیا جانا ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG