رسائی کے لنکس

سندھ میں 73 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے: رپورٹ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسکول میں ہر سال ہزاروں بچے داخل تو ہو رہے ہیں مگر جیسے جیسے اگلی جماعتوں میں پہنچتے ہیں ان کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آتی ہے۔

​پاکستان کے صوبہ سندھ میں جہاں دیگر مسائل حل طلب ہیں وہیں تعلیم جیسا بنیادی مسئلہ سال ہا سال سے ارباب اختیار کی عدم توجہ کا شکار رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کئی حکومتیں اقتدار میں آئیں اور گئیں مگر سندھ کا تعلیمی مسائل میں کوئی واضح فرق سامنے نہیں آ سکا۔

انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنس کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں 5 سے 16 سال کی عمر کے اسکول نا جانے والے بچوں کی تعداد 73 لاکھ بچے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسکول میں ہر سال ہزاروں بچے داخل تو ہو رہے ہیں مگر جیسے جیسے اگلی جماعتوں میں پہنچتے ہیں ان کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آتی ہے۔

سندھ کے تعلیمی مسائل کو حل کرنے میں سیاسی جماعتوں کو کیا کردار ادا کرنا چاہیئے اسی عنوان کو زیر بحث لانے کے لیے غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں سندھ کے اراکین اسمبلی سمیت سیاسی رہنما شریک ہوئے۔

تقریب کے دوران اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں متعدد بار تعلیم کے مسئلے کو اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سندھ کے تعلیمی بجٹ کو بہتر طریقے سے مسائل کے حل پر صرف نہیں کیا جاتا۔

اراکین اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ ’’سب سے ضروری بات یہ ہے کہ تعلیمی مسائل کے حل کے لیے سب سے پہلے کرپشن اور سیاست کو نکالنا ہو گا غیر جانبداری سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ تعلیم جیسے مسئلے ہر سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا گیا۔‘‘

اراکین اسمبلی نے سندھ کے تعلیمی مسائل کے حل کے لیے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کی بھی تجاویز پیش کیں نا صرف یہ بلکہ سندھ کے بے شمار تعلیمی مسائل کو اسمبلی میں زیادہ سے زیادہ زیر بحث لانے اور مثبت طریقے سے بہتر کرنے پر بھی غور کیا گیا۔

انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کے ترجمان احمد علی کا وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ’’ہم اُمید کر رہے ہیں کہ اس سے بہت اچھی مثبت چیزیں سامنے آئیں گی یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں تعلیم کے مسائل پر اکٹھا ہوئی ہیں ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی امور کے حوالے سے اسے آگے پہنچایا جائے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’صوبہ سندھ کے مسائل کو حل کرنے میں سب سے بڑا مسئلہ تجربہ کار تربیت یافتہ اساتذہ کی ضرورت ہے سندھ کے اساتذہ کی تربیت پر بجٹ کا ایک حصہ صرف کیا جائے تو تعلیمی معیار بہتر ہو سکےگا‘‘۔

ان کے بقول ’’صرف اسکول کھڑے کر دینے اور کمرے بنانے سے کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے حکومت کو اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی‘‘۔

سندھ کے تعلیمی پسماندگی کو زیر بحث لانے کے لیے تقریب کے دوران تنظیم کی جانب سے مرتب کردہ ایک جائزہ رپورٹ بھی پیش کی گئی جس کی مدد سے ارباب اختیار کی توجہ تعلیم جیسے بنیادی مسئلے کی جانب مبذول کرانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سات لاکھ سے زائد بچے جو پہلی جماعت میں تعلیم کا آغاز کرتے ہیں 10 ویں جماعت تک پہنچ کر ان کی تعداد 1 لاکھ کے لگ بھگ رہ جاتی ہے جس کی ایک بڑی وجہ سیکنڈری لیول کے اسکولوں کی کمی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سندھ بھر میں سرکاری سطح پر فعال اسکولوں میں 90 فیصد پرائمری سطح کے اسکول جبکہ مڈل اور سیکنڈری اسکولوں کی تعداد صرف 10 فیصد ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سندھ بھر میں اسکولوں میں طلبا سے زیادہ اساتذہ کی بھرمار کہیں اساتذہ بچوں کی تعداد کے مطابق نہیں ہیں۔

XS
SM
MD
LG