رسائی کے لنکس

مدر ٹریسا کو امن کا نوبیل انعام بھی مل چکا ہے اور انہوں نے 6 جنوری 1929 میں بھارت  آنے کے بعد اپنی  باقی ماندہ زندگی یہاں کے انتہائی غریب افراد کے لیے وقف کر دی تھی۔

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے اتوار کو ویٹیکن میں منعقدہ ایک تقریب میں مدر ٹریسا کو سینٹ قرار دینے کا اعلان کیا۔

لاطینی زبان میں اعلان کرتے ہوئے پوپ نے کہا کہ "بابرکت تثلیث کے اعزاز میں ہم کولکتہ کی بابرکت مدر ٹریسا کے سینٹ ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور ہم انہیں ان (افراد) میں شامل کر رہے ہیں جنہیں سینٹ کا اعزاز مل چکا ہے۔ یہ فرمان بھی جاری کیا جارہا ہے کہ اس حیثیت میں پورا چرچ ان کا احترام کرے گا۔"

مدر ٹریسا کو امن کا نوبیل انعام بھی مل چکا ہے اور انہوں نے 6 جنوری 1929 میں بھارت آنے کے بعد اپنی باقی ماندہ زندگی یہاں کے انتہائی غریب افرادکے لیے وقف کر دی تھی۔

البانیہ کی اس راہبہ نے دنیا کے120سے زائد ملکوں میں خیراتی ادارے قائم کیے جہاں ہزاروں راہباؤں اور رضاکاروں کی مدد سے انہوں نے غریب افراد کی مدد کا مشن جاری رکھا جبکہ خود انہوں نے ایک سادہ زندگی بسر کی۔

جب پانچ ستمبر1997 کو ان کا انتقال ہوا تو ان کا کل اثاثہ ان کی بائیبل، تسبیح اور ان کی ساڑھی تھی تاہم وہ ایک بہت بڑا ورثہ چھوڑ کر گئی۔

رومن کیتھولک چر چ سینٹ کے مرتبہ پر فائز ہونے والوں کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے تاہم ان میں سے ایک بڑی تعداد کی وفات کے کئی صدیوں بعد انھیں اس اعزاز کا مستحق قرار دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG