رسائی کے لنکس

پوپ فرانسس مشرقی کیوبا جائیں گے


ہولگن میں پوپ کی آمد سے قبل ان کے خیر مقدم کے لیے ایک بینر آویزان۔ 20 ستمبر 2015

ہولگن میں پوپ کی آمد سے قبل ان کے خیر مقدم کے لیے ایک بینر آویزان۔ 20 ستمبر 2015

1998 سے اب تک پوپ کا کیوبا کا یہ تیسرا دورہ ہے۔ 1998 میں پوپ جان پال دوم نے ملک کا دورہ کیا تھا جس کے بعد پوپ بینیڈکٹ نے 2012 میں کیوبا کا دورہ کیا۔

پوپ فرانسس پیر کو کیوبا کے دارالحکومت سے مشرقی کیوبا جائیں گے۔ اتوار کو انہوں نے کاسترو برادران سے ملاقات کی تھی جو 1959 سے کیوبا پر حکمران ہیں۔

پیر کو وہ فیڈل اور راؤل کاسترو کے آبائی صوبے ہو لگن جائیں گے۔ ہولگن ہوانا کے مشرق میں 800 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور ایک صلیب کے لیے مشہور ہے جو اسکے دارالحکومت میں کئی صدیوں سے نصب ہے۔

رومن کیتھولک رہنما ہولگن میں ہزاروں افراد کے ساتھ دعائیہ تقریب میں شریک ہوں گے جس کے بعد وہ کیوبا کے دوسرے بڑے شہر سینٹیاگو جائیں گے جہاں وہ حضرت مریم سے منسوب ایک عبادت گاہ پر حاضری دیں گے۔

پوپ فرانسس نے اتوار کو ہوانا میں ایک دعائیہ تقریب میں شرکت کی اور کیوبا کے شہریوں کو نظریے پر عمل پیرا ہونے کے خطرات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ہوانا کے تاریخی ریولیوشنری سکوائر میں کھچا کھچ بھرے مجمعے سے خطاب کیا۔

’’مسیحیوں کو مستقل طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی آرزوؤں اور خواہشات اور طاقت کے حصول کو ایک طرف رکھ کر ان افراد کی طرف توجہ دیں جو سب سے کمزور ہیں۔‘‘

انہوں نے کیوبا کے سابق رہنما فیڈل کاسترو سے ان کے گھر جا کر ملاقات کی۔ ویٹیکن کے بقول کاسترو خاندان کی موجودگی میں دونوں نے ’’بہت غیر رسمی اور دوستانہ ماحول میں‘‘ ملاقات کی۔ انہوں نے مذہب پر کتابوں کا تبادلہ بھی کیا۔

پوپ فرانسس نے بعد میں فیڈل کے بھائی اور کیوبا کے موجودہ رہنما راؤل کاسترو سے بھی ملاقات کی۔

اس کے بعد وہ پادریوں کے ایک گروپ کے ساتھ شام کی دعا میں شامل ہوئے اور ثقافتی مرکز میں نوجوانوں سے خطاب کیا۔

فرانسس اور ویٹیکن حکام نے امریکہ اور کیوبا کے درمیان 2014 میں ہونے والے خفیہ مذاکرات کی ثالثی کی تھی۔ ان مذاکرات کے تنیجے میں گزشتہ برس راؤل کاسترو اور امریکی صدر براک اوباما نے دونوں ممالک کے درمیان نصف صدی سے زائد عرصہ بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں نے ایک دوسرے کے دارالخلافوں میں سفارتخانے کھولے ہیں۔

فرانسس نے طویل عرصہ سے ناراض دونوں پڑوسیوں کے درمیان مراسم استور ہونے کو ’’تمام دنیا کے لیے مصالحت کی ایک مثال‘‘ قرار دیا ’’جو ہم سب کے لیے امید کا باعث ہے۔‘‘

1998 سے اب تک پوپ کا کیوبا کا یہ تیسرا دورہ ہے۔ 1998 میں پوپ جان پال دوم نے ملک کا دورہ کیا تھا جس کے بعد پوپ بینیڈکٹ نے 2012 میں کیوبا کا دورہ کیا۔

منگل کو کیوبا کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پوپ فرانسس امریکہ جائیں گے۔ امریکہ میں صدر اوباما سے ایک نجی ملاقات کے علاوہ وہ کانگریس کے مشترکہ اجلاس اور نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بھی خطاب کریں گے۔

XS
SM
MD
LG