رسائی کے لنکس

پوپ فرانسس کی دعوت پر اسرائیلی صدر شیمون پیریز اور فلسطینی رہنما محمود عباس نے اس تاریخی دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔

اسرائیلی صدر شیمون پیریز اور فلسطینی رہنما محمود عباس نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے پوپ فرانسس کی طرف سے ویٹیکن میں منعقدہ دعائیہ تقریب میں شرکت کی، اس سلسلے میں ایسی دعائیہ تقریب کی مثال نہیں ملتی۔

مشرق وسطیٰ کے امن مذاکرات کے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے کے کچھ ہی ہفتوں کے بعد ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے پوپ نے شیمون پیریز اور محمود عباس کو گزشتہ ماہ اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات امن کے ’’نئے سفر‘‘ کی جانب آغاز کا سبب بنے گی۔

پوپ فرانسس نے اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’قیام امن کا مطالبہ جنگ و جدل سے زیادہ حوصلہ افزا ہے۔ یہ مطالبہ ایک دوسرے کا سامنا کرنے کو، ہاں کہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔۔۔۔ مذاکرات کو ہاں اور تشدد کو نا۔ معاہدوں کا احترام اور جارحانہ کارروائیوں کو نا۔ خلوص کے لیے ہاں جبکہ دوغلے پن کو نا (کہنے کے لیے) ہمت، طاقت (کی ضرورت ہوتی ہے)‘‘

دو گھنٹے طویل دعائیہ تقریب میں عیسائی، یہودی اور مسلمان مذہبی رہنماؤں نے بھی شرکت کی جس میں تینوں مذاہب کی مقدس کتابوں کے کچھ حصے پڑھے گئے۔

اس تاریخی تقریب کے بعد ویٹیکن نے اس خواہش کو مزید تر و تازہ کرنے کا مطالبہ کیا کہ اس سے تعطل کے شکار امن مذاکرات میں بڑی پیش رفت ہو گی۔

ویٹیکن کے رہنماؤں کا یہ اصرار تھا کہ پوپ اس قیام امن کے عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ چرچ ان تفصیلات سے سروکار نہیں رکھنا چاہتا جو کہ اسرائیل فلسطین کے درمیان بات چیت کے مستقبل سے وابستہ ہیں۔
XS
SM
MD
LG