رسائی کے لنکس

پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ، ’میں یہ نہیں جانتا کہ گلوبل وارمنگ کی پوری ذمہ داری انسان پر عائد ہوتی ہے یا نہیں۔ البتہ، زیادہ تر ذمہ داری انسان ہی پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ انسان مستقل قدرت کے کاموں میں مداخلت کرتا رہا ہے‘

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا، پوپ فرانسس کا کہنا ہے کہ عالمی درجہٴ حرارت میں اضافے کا ذمہ دار انسان خود ہے۔

پوپ فرانسس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ماحولیات کے حوالے سے مستقبل قریب میں ان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے جواب میں دنیا میں ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے اور خدا کی بنائی ہوئی زمین کے تحفظ کے لیے ’جراتمند اقدامات‘ اٹھائے جائیں گے۔

پوپ فرانسس سری لنکا کے دورے کے بعد منیلا روانگی کے موقعے پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

اس موقعے پر پوپ فرانسس سے سوال کیا گیا آیا ماحولیاتی تغیر کا براہ ِراست ذمہ دار انسان ہے؟

اس سوال کے جواب پر پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ، ’میں یہ نہیں جانتا کہ اس کی پوری ذمہ داری انسان پر عائد ہوتی ہے یا نہیں۔ البتہ، اس کی زیادہ تر ذمہ داری انسان ہی پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ انسان مستقل قدرت کے کاموں میں مداخلت کرتا رہا ہے‘۔

ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے پوپ فرانسس کا اب تک کا یہ سب سے واضح پیغام ہے۔ پوپ فرانسس کے اس بیان کے بعد دنیا بھر کے درمیان، بشمول امریکہ کے قدامت پسند اور لبرل کیتھولک عیسائیوں کے، ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔

پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ، ’میرے خیال میں انسان نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ آج بہت سے لوگ اس مسئلے پر اپنی آواز بلند کر رہے ہیں‘۔

پوپ فرانسس سری لنکا کے دورے کے بعد فلپائن کے دورے پر روانہ ہوئے جہاں وہ 2013ء میں آنے والے طوفان ’ہایان‘ کے متاثرین سے ملاقات کریں گے۔ فلپائن کی حکومت کا موٴقف ہے کہ ’ہایان‘ طوفان ماحولیاتی تبدیلی اور موسمیاتی تغیر کی وجہ سے آیا تھا۔

واضح رہے کہ پوپ فرانسس نے پوپ بننے کے روز ہی ماحولیات کے حوالے سے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG