رسائی کے لنکس

پوپ فرینسس اور پیٹریارک کِرل کی کیوبا میں ملاقات ہوگی: اعلان


فائل

فائل

بارہ فروری کو پوپ اور پیٹریارک کِرل کی یہ ملاقات دونوں کلیساؤں کے سربراہان کے درمیان پہلی ملاقات ہوگی، جسے دونوں مسلک نے ’’تاریخی‘‘ قرار دیا ہے، جس اقدام کے نتیجے میں مسیحیت کی مغربی اور مشرقی شاخوں کے مابین 1000 برس کی دوری ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے

رومن کیتھولک کلیسا کے سربراہ، پوپ فرینسس اور روسی قدامت پسند چرچ کے رہنما، پیٹریارک کِرل اگلے ہفتے کیوبا میں ملاقات کریں گے۔ اِس بات کا اعلان جمعے کے روز دونوں اطراف سے کیا گیا ہے۔

بارہ فروری کو پوپ اور پیٹریارک کِرل کی یہ ملاقات دونوں کلیساؤں کے سربراہان کے درمیان پہلی ملاقات ہوگی، جسے دونوں مسلک نے ’’تاریخی‘‘ قرار دیا ہے، جس اقدام کے نتیجے میں مسیحیت کی مغربی اور مشرقی شاخوں کے مابین 1000 برس کی دوری ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ارجنٹینا میں جنم لینے والے پوپ، فروری 12 سے 18 تک میکسیکو کا دورہ کریں گے۔ وہ کیوبا میں قیام کریں گے جس دوران اُن کی ہوانا کے ’ہوزے مارتی‘ بین الاقوامی اڈے پر پیٹریارک سے ملاقات ہوگی۔ کِرل کیوبا کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ پیٹریارک کی حیثیت سے یہ اُن کا لاطینی امریکہ کا پہلا دورہ ہے۔

سربراہ سطح کے اِس اجلاس کا بندوبست کیوبا کے صدر رئول کاسترو نے کیا ہے، جنھوں نے گذشتہ سال پوپ فرینسس کے دورے کی میزبانی کی تھی۔

ویٹیکن کا کہنا ہے کہ، فرینسس اور کِرل دو گھنٹے تک نجی گفتگو کریں گے، جس کے بعد وہ ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کریں گے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ یہ ملاقات ’’خلوص نیت رکھنے والے تمام لوگوں کے لیے نیک فال ثابت ہوگی‘‘۔

ملاقات کی اہمیت کے بارے میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے، ریورنڈ فریڈریکو لومبارڈی نے کہا ہے کہ اِس تقریب کی خصوصی اہمیت ہے جس کا عمومی تعلقات کی بہتری میں مدد ملے گی اور مسیحی اعتراف سے متعلق مکالمے کی راہ کھلے گی۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ کیوبا کا انتخاب اِس لیے کیا گیا ہے کیونکہ ’’شک نہیں کہ یقیناً یہ آج کی دنیا کا کا چوراہا ہے‘‘۔

نومبر 2014ء میں، پوپ فرینسس نے بتایا تھا کہ اُنھوں نے کِرل سے کہا ہے کہ ’’جہاں آپ کہیں گے، میں وہاں آ جاؤں گا۔ آپ بتائیں، میں ویسے ہی کروں گا‘‘۔

ماسکو میں اخباری کانفرنس کرتے ہوئے، ’میٹروپولٹن آف ولوسک‘، الاریون نے کہا ہے کہ دونوں کلیساؤں کے مابین طویل مدتی اختلافات موجود رہیں گے، خاص طور پر یوکرین کی مشرقی ’رائٹ چرچ‘ کے تنازعے پر، جس کا روم سے الحاق ہے۔ لیکن، کِرل اور فرینسس کے لیے گنجائش پیدا کی گئی ہے، تاکہ مشرق وسطیٰ میں مسیحیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے معاملے پر دونوں مل کر آگے بڑھ سکیں۔

بقول الیریون، رومن کیتھولک چرچ اور ایسٹرن اورتھوڈوکس چرچ کے سربراہان کی اس ملاقات کے نتیجے میں دونوں کلیساؤں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع میسر آئے گا۔

دنیا بھر میں اورتھوڈوکس چرچ کے ماننے والوں کی تعداد 25 کروڑ ہے، جب کہ روس میں اِن کی تعداد 16 کروڑ 50 لاکھ ہے۔

سنہ 1990ء کی دہائی میں سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد روسی چرچ نے کیتھولک کلیسا پر الزام لگایا تھا کہ اورتھوڈوکس مسلک کے ماننے والوں کو کیتھولک بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، جس الزام کو ویٹیکن مسترد کرتا ہے۔



XS
SM
MD
LG