رسائی کے لنکس

پوپ کی طرف سے پاؤں دھونے کی رسم میں مسلمان بھی شامل


پوپ فرانسس (فائل فوٹو)

پوپ فرانسس (فائل فوٹو)

پوپ فرانسس نے کہا کہ "ہم مختلف ثقافت اور مذہب کے حامل ہیں تاہم ہم بھائی ہیں اور ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں"۔

پوپ فرانسس نے بھائی چارے اور خیر سگالی کے غیر معمولی اقدام کے طور پر جمعرات کو مسلمان، قدامت پسند مسیحی، ہندو اور دیگر کیتھولک تارکین وطن کے پاؤں کو دھویا اور ان کو چوما اور انہیں ایک ہی خدا کے بندے قرار دیا۔

ان کی طرف سے یہ عمل ایک ایسے وقت سامنے آیا جب برسلز حملوں کے بعد تارکین وطن اور مسلمان مخالف جذبات میں شدت آئی ہے۔

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے روم کے باہر کاستلیوو دی پورتو میں واقع تارکین وطن کے مرکز میں پناہ کے متلاشیوں کے لیے قائم پناہ گاہ میں ایسٹر کے سلسلے میں ایک تقریب میں اس قتل عام کو " جنگ کا اشارہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خون کے پیاسے لوگوں نے کیے۔

'مقدس جمعرات' کو ادا کی جانے والی یہ رسم حضرت عیسیٰ کی اس رسم کی یاد میں منائی جاتی ہے جب انہوں نے مصلوب ہونے سے پہلے اپنے 12 حواریوں کے پاؤں دھوئے تھے اور یہ رسم خدمت کی علامت کے طور پر منائی جاتی ہے۔

پوپ فرانسس کی طرف سے یہ عمل برسلز کے حملہ آوروں کی طرف سے اس عمل کے بالکل برعکس ہے جو تباہی کی علامت تھا اور انہوں نے کہا کہ وہ (حملہ آور) انسانی بھائی چارے کو تباہ کرنا چاہتے ہیں جس کا اظہار تارکین وطن کرتے ہیں۔

پوپ فرانسس نے کہا کہ "ہم مختلف ثقافت اور مذہب کے حامل ہیں تاہم ہم بھائی ہیں اور ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں"۔

پوپ فرانسس نے جب آگے جھک کر تارکین وطن کے پاؤں کو مقدس پانی سے دھویا تو ان میں سے کئی ایک رو پڑے۔

ویٹی کن کے طریقہ کار کے مطابق ایک طویل عرصے تک صرف مرد اس رسم میں شریک ہو سکتے تھے اور ماضی کے پوپ اور پادریوں نے یہ رسم صرف ان 12 افراد پر ادا کی جو سب کے سب کیتھولک ہوتے تھے جو کہ حضرت عیسیٰ کے 12 حواریوں کی یاد دلاتی ہے۔

تاہم فرانسس نے 2013 میں پوپ منتخب ہونے کے بعد سب کو اس وقت حیران کر دیا جب انہوں نے یہ رسم ادا کی تو اس میں خواتین اور مسلمان بھی شامل تھے اور کئی سال تک یہ رسم اسی انداز میں جاری رہی تاہم رواں سال جنوری میں پوپ فرانسس نے قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے واضح طور پر خواتین اور لڑکیوں کو بھی اس رسم میں شامل ہونے کی اجازت دے دی۔

ویٹی کن نے جمعرات کو کہا کہ اس رسم میں چار خواتین اور آٹھ مردوں نے حصہ لیا۔

خواتین میں تارکین وطن کے مرکز میں کام کرنے والی ایک اطالوی کیتھولک خاتون ایریٹریا کی تارکین وطن، تین قطبی مسیحی خواتین جبکہ مردوں میں نائیجیریا کے چار کیتھولک مسیحی اور ان کے علاوہ تین مرد جن میں ہر ایک کا تعلق مالی، شام اور پاکستان سے تھا جبکہ بھارت سے تعلق رکھنا والا ایک ہندو شخص بھی اس رسم میں شامل تھا۔

XS
SM
MD
LG