رسائی کے لنکس

امریکہ میں پاکستانی آموں کی کھپت میں تیزی سے اضافہ: ذرائع


پاکستانی سفارت خانے کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ درآمدی طریقہ کار کو سہل بنا کر امریکہ میں پاکستانی آموں کی مارکیٹ میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے

پاکستانی سرکاری ذرائع کے مطابق، پاکستانی آموں کی امریکہ میں کھپت ایک سال کے عرصے میں دس گنا بڑھ چکی ہے، جبکہ اس کے درآمدی عمل کو مزید سہل بنانے کے لئے کئی ٹھوس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بات ریاست میری لینڈ میں پاکستانی آموں کی ایک نمائش کے موقع پر پاکستان سفارت خانے کے ایک اہل کار نے پیر کے روز میڈیا کو بتائی۔

ٹریڈ منسٹر، خرم آغا نے بتایا کہ شکاگو کے بعد، ہوسٹن کا شہر بھی پاکستانی آموں کے لئے کھل گیا ہے۔ اِس ضمن میں، اُنھوں نے بتایا کہ ’ریڈئیشن‘ کے متبادل ’ہاٹ واٹر پروسیس‘ کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس کی یورپی کمیشن پہلے ہی منظوری دے چکا ہے۔

بقول اُن کے، ’درآمدی طریقہ کار کو سہل بنا کر امریکہ میں پاکستانی آموں کی بڑی مارکیٹ تیار کی جاسکتی ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’میں ہر جگہ گیا ہوں۔ اور میں نے دیکھا ہے کہ جس نے بھی پاکستانی آم منگوائے، وہ چند ہی گھنٹوں میں فروخت ہوگئے۔ بہت گنجائش ہے۔ قیمت میں کمی ہوئی ہے اور مزید ہوگی۔ ہم روائتی اشیا کی مارکیٹنگ کے ساتھ ساتھ اب نئے قسم کی مصنوعات کی امریکہ میں مارکیٹنگ پر توجہ دے رہے ہیں‘۔

اس نمائش میں بڑی تعداد میں پاکستانی برادری نے شرکت کی اور پاکستانی آم سے بھی لطف اندوز ہوئے، جبکہ ریاست میری لینڈ کی محکمہ زراعت کی ڈائریکٹر انٹرنیشنل مارکٹنگ، تھیرسا بروفی نے پاکستانی آموں کو ’دنیا کا بہترین پھل قرار دیا‘، اور تحفہ بھیجنے پر پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ’فری ٹریڈ مارکیٹ‘ کے اصولوں کے مطابق باہمی تجارت کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔

اس موقع پر، نمائش میں شریک پاکستانی امریکیوں میں بھرپور جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ ان میں سے کئی ایک تو ایسے تھے جنھوں نے برسوں کے بعد پاکستانی آم دیکھا تھا۔

نمائش کی افتتاحی تقریب کے رسمی اختتام کے بعد، جوں ہی منتظمین نے شرکا کو آم کھانے کی دعوت دی، تمام مرد و خواتین لطف اندوز ہوئے۔

نمائش دیکھنے کے لئے آنے والی ان خواتین و حضرات کا کہنا تھا کہ ماضی میں وہ ہر سال پاکستانی آموں کا ذائقہ چکھنے کے لئے کینیڈا جایا کرتے تھے۔

انھوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ باہمی تجارت کی راہ میں حائل تمام دشواریوں کا خاتمہ کیا جائے، تاکہ عوام کو اس کا فائدہ پہنچے۔

XS
SM
MD
LG