رسائی کے لنکس

یوکرین کے صدر کی امن مشن کی تعیناتی کی اپیل


صدر پیٹرو پوروشنکو

صدر پیٹرو پوروشنکو

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر نے کہا کہ کیئف کی طرف سے ایسی تجاویز گزشتہ ہفتے ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی اہمیت کو کم کرنے کے مترادف ہے۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے ملک کے مشرقی قصبے ڈیبالٹسیو سے اپنے ہزاروں فوجیوں کے انخلاء کے احکامات کے بعد بین الاقوامی امن مشن کی تعیناتی کی اپیل کی ہے۔

صدر پوروشنکو کے دفتر نے بدھ دیر گئے بتایا گیا کہ صدر کی قیادت میں نیشنل ڈیفنس اور اینڈ سکیورٹی کونسل اس نتیجے پر پہنچی کہ اقوام متحدہ سے کہا جائے کہ وہ امن مشن اُن کے ملک میں بھیجے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے مطابق کام کرے۔

اس اعلان سے کچھ گھنٹے قبل ہی یوکرین کے ہزاروں فوجی ڈیبالٹسیو کے علاقے سے نکلے تھے۔ یہ علاقہ اس لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں ایک ریلوے لنک ہے جو یوکرین میں روس نواز علیحدگی پسندوں کے زیر قبضہ علاقوں لوہانسگ اور ڈونٹسک میں رابطے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

باغیوں نے ڈیبالٹسیو کے علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

روس اور باغیوں دونوں نے بین الاقوامی امن اہلکاروں کی تعیناتی کو مسترد کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر نے کہا کہ کیئف کی طرف سے ایسی تجاویز گزشتہ ہفتے ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی اہمیت کو کم کرنے کے مترادف ہے۔

بدھ کو وائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ روس اور علیحدگی پسند مشرقی یوکرین میں جنگ پر عمل درآمد نہیں کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں امریکہ کے وزیر جان کیری نے اپنی روسی ہم منصب سے بھی ٹیلی فون پر بات کی اور اس بات پر زور دیا کہ روس اور عیلحدگی پسند جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کریں۔

XS
SM
MD
LG