رسائی کے لنکس

کیئف میں مظاہرین پر ہلاکت خیز حملے میں کریملن ملوث ہے: پوروشنکو


صدر نے مرنے والوں کے لواحقین سے ملاقات بھی کی

صدر نے مرنے والوں کے لواحقین سے ملاقات بھی کی

وائٹ ہاؤس نے بھی جمعہ کو کہا کہ اگر روس نواز علیحدگی پسند مشرقی یوکرین میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھتے ہیں تو ماسکو کو مزید "تنہائی اور بھاری قیمت" کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ سال کیئف میں روس مخالف مظاہرین کو نشانہ بنا کر ہلاک کرنے میں کریملن براہ راست ملوث ہے۔

انھوں نے ان ہلاکتوں کی پہلی برسی کے موقع پر کہا کہ یوکرین کے سکیورٹی اداروں کے پاس اس کے شواہد موجود ہیں۔

صدر نے مرنے والے بعض لوگوں کے لواحقین سے بھی ملاقات کی اور انھیں بتایا کہ سکیورٹی اداروں نے انھیں مطلع کیا کہ روسی صدر کے قریبی ساتھی ولادیسلاو سرکوف غیر ملکی ماہر نشانہ بازوں کے ایک گروپ کے سربراہ ہیں جس نے گزشتہ سال مائیدان میں یہ کارروائی کی۔

روس کی وزارت خارجہ نے اس الزام کو "نامعقول" اور "پاگل پن" قرار دیا۔

وائٹ ہاؤس نے بھی جمعہ کو کہا کہ اگر روس نواز علیحدگی پسند مشرقی یوکرین میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھتے ہیں تو ماسکو کو مزید "تنہائی اور بھاری قیمت" کا سامنا کرنا پڑے گا۔

فرانس کے صدر فرانسواں اولاں اور جرمنی کی چانسلر آنگیلا مرخیل بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ منسک (جنگ بندی) معاہدے کی خلاف ورزیاں اگر ختم نہ ہوئیں تو ممکنہ طور پر مزید پابندیاں بھی عائد کی جاسکتی ہیں۔

12 فروری کو روس، یوکرین، جرمنی اور فرانس کے رہنماؤں نے رات بھر جاری رہنے والی مذاکراتی نشست کے بعد جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔

گزشتہ سال اپریل سے مشرقی یوکرین میں جاری لڑائی میں 5400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG