رسائی کے لنکس

افغانستان میں 2014ء کے بعد سیکیورٹی کی صورتحال

  • نیلوفر مغل

افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجیوں کی تعداد

افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجیوں کی تعداد

افغانستان سے غیر ملکی لڑاکا فوجیوں کے نکلنے کی تاریخ ایک سال اور قریب آ گئی ہے

آنے والے سال میں افغانستان اپنی سیکورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی تیاریاں جاری رکھے گا۔

بین الاقوامی لڑاکا فوجی 2014 میں افغانستان سے اپنی واپسی مکمل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ایک طرف یہ کام جاری ہے اور دوسری طرف چین، ایران اور پاکستان کی توجہ اپنے تباہ حال ہمسایے کے مستقبل پر ہے جو برسوں کی جنگ سے تباہ ہو چکا ہے۔

افغانستان سے غیر ملکی لڑاکا فوجیوں کے نکلنے کی تاریخ ایک سال اور قریب آ گئی ہے اور افغان فوج ملک کی سیکورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی تیاری میں مصروف ہے۔

وڈیو پر کلک کیجئیے:




لیکن ملک میں سیکورٹی فورسز کی تعداد تین لاکھ ہو جانے کے بعد بھی افغانستان کو طالبان، القاعدہ اور حقانی نیٹ ورکس کی طرف سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار امتیاز گُل کہتے ہیں کہ پاکستان سمیت افغانستان کے ہمسایوں نے وہاں سیاسی استحکام قائم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں کیوں کہ وہاں عدم استحکام سے ان تمام ملکوں کے لیے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

گزشتہ سال کے دوران میں افغانستان کے اتحادی ممالک کے رہنما شکاگو میں اور دوسرے مقامات پر ملے اور کم از کم چار ارب ڈالر کی امداد کے وعدے کیے اور اگلے عشرے کے دوران ملک کے مستقبل کا خاکہ پیش کیا۔

لیکن افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے سبک دوش ہونے والے خصوصی نمائندے Marc Grossman نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ یہ وعدے محض ایک قدم ہیں۔

جرمن مارشل فنڈ کے تجزیہ کار Andrew Smalls نے بیجنگ میں وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ چین کے دوستانہ تعلقات بے حد اہم ہیں۔

افغانستان کے مغرب میں، ایران نے اپنے اس ہمسایہ ملک کے ساتھ پہلے ہی مضبوط ثقافتی اور تجارتی تعلقات قائم کر لیے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے سابق اسسٹنٹ سکریٹری Karl Inderfurth کہتے ہیں کہ ایران اس اثر و رسوخ کو کیسے استعمال کرتا ہے، یہ بات انتہائی اہم ہے۔

افغانستان، اس کے ہمسایے اور اتحادی ان تمام مسائل میں کس طرح ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں، اس سے اس ملک کے مستقبل کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔
XS
SM
MD
LG