رسائی کے لنکس

پاکستان کی سپریم کورٹ کی طرف سے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے اثاثوں سے متعلق ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کے فیصلے کو بظاہر حکومت اور حزب مخالف نے تسلیم تو کر لیا ہے لیکن دونوں جانب سے ہی ایک سال قبل پاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد سے شروع ہونے والا الزام تراشیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہو سکا ہے بلکہ عدالتی فیصلے کے بعد اس میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔

حزب مخالف کا اصرار ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل سے قبل وزیراعظم مستعفی ہوں کیونکہ ان کے منصب پر فائز رہتے ہوئے اس ٹیم کی تحقیقات ان کے بقول جانبدارنہ ہی رہیں گی۔

ایسے میں اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر راہنما اور ایوان بالا "سینیٹ" میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے یہ دعویٰ کیا کہ چونکہ مسلح افواج کی انٹیلی جنس ایجنسی "آئی ایس آئی" کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار وزیراعظم کی نواسی کے سسرالی رشتے دار ہیں اور دیگر تحقیقاتی ادارے بھی حکومت کے ماتحت ہیں لہذا اس تحقیقات میں شفافیت نہیں ہو سکتی۔

ایسے ہی خیالات کا ڈھکے چھپے الفاظ میں اظہار بعض دیگر سیاسی حلقوں کی طرف سے بھی کیا گیا جس پر فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے آئی ایس آئی کے سربراہ سے متعلق بیانات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا۔

جمعہ کو ٹوئٹر پر ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ سے متعلق بعض لوگوں کے بیانات بے بنیاد، گمراہ کن اور غلط ہیں۔ ان کے بقول مسلح افواج کا کردار کسی شک و شبہ سے بالا تر ہے۔

ادھر وکلا کی ایک نمائندہ تنظیم لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایک ہفتے میں ایسا نہ کیا گیا تو وہ وزیراعظم کے خلاف تحریک چلائیں گے۔

حکومت حزب مخالف کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ شفاف تحقیقات کے لیے ہر اقدام کو یقینی بنایا جائے گا اور اپوزیشن کو اب الزام تراشیوں کا سلسلہ ختم کر دینا چاہیے۔

ہفتہ کو راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور ان کے بچے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے بھرپور تعاون کریں گے۔

اس ساری صورتحال کو بعض مبصرین سود مند تصور نہیں کرتے اور ان کے بقول سیاستدانوں کو بالغ نظری سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

سیاسی امور کے تجزیہ کار احمد بلال محبوب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو انتخابی مہم سے تعبیر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مناسب یہی ہو گا کہ قائدین سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حزب مخالف کی مختلف جماعتوں کے درمیان بھی ایک مقابلہ شروع ہو گیا ہے کہ ان میں سے کون حکومت کے لیے زیادہ مشکل حالات پیدا کر رہا ہے جو کہ سیاسی عمل کے لیے ان کے بقول شاید بہتر نہ ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG