رسائی کے لنکس

عام طورپر دوڈالر روزانہ کی آمدنی کو خط غربت کا معیار تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن بعض ملکوں نے اپنی معیشت اور دیگر حالات کے پیش نظر خط غربت کے لیے آمدنی کے مختلف معیار طے کررکھے ہیں

دنیا میں بہت سے غریب ممالک ہیں اور غربیوں کی تعداد بھی اربوں میں ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ غربیوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق غریب ملکوں سے نہیں ہے بلکہ وہ امیر اور ترقی یافتہ ملکوں کے شہری ہیں۔

غریب وہ نہیں ہےجسے ہم اور آپ غریب سمجھتے ہیں بلکہ غربت کی پیمائش کے لیے عالمی سطح پرآمدنی کا ایک پیمانہ رائج ہے جسے خط غربت کہتے ہیں۔ جن افراد کی آمدنی خط غربت سے نیچے ہوتی ہے ، انہیں معیشت دان غریب تسلیم کرتے ہیں ۔

عام طورپر دوڈالر روزانہ کی آمدنی کو خط غربت کا معیار تصور کیا جاتا ہے اور اس سے کم کمانے والے افراد غربت کے دائرے میں آتے ہیں۔ لیکن بعض ملکوں نے اپنی معیشت اور دیگر حالات کے پیش نظر خط غربت کے لیے آمدنی کے مختلف معیار طے کررکھے ہیں۔

ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں غریب افراد کی تعداد تقریباً ڈھائی ارب کے لگ بھگ ہے۔ جن میں سے دوارب افراد ایسے ممالک میں رہتے ہیں جن کا شمارترقی یافتہ یا متوسط آمدنی کے ممالک میں کیا جاتا ہے۔ جب کہ صرف 50 کروڑ غریبوں کا تعلق غریب ملکوں سے ہے۔

یہ دلچسپ اور حیران کن اعدادوشمار یونیورسٹی آف ساسکس میں اینڈی سومنر کی زیر قیادت ہونے والی ایک تحقیق کے ذریعے سامنے آئے ہیں۔

سومنر کہتے ہیں اپنے مطالعے جائزے سے انہیں معلوم ہوا کہ گذشتہ عشرے میں بہت سے ممالک کی معیشتوں میں بہتری آئی اور اوسط آمدنیوں میں اضافہ ہوا ، لیکن دوسری جانب غربت کی سطح میں وہ کمی نہ آسکی جس کی توقع کی جارہی تھی۔

اقتصادی ماہرین کا کہناہے کہ معاشی ترقی کے نتیجے میں جہاں امیروں کی آمدنیاں بڑھی ہیں اور درمیانے طبقے کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے وہاں غریب مزید غریب تر ہوگئے ہیں اور انہیں جینے کے لیے ماضی کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔

نئی صدی کے آغاز پر اقوام متحدہ نے جو ترقیاتی اہداف طے کیے تھے ان میں 2015ء تک شدید غربت اور بھوک کاخاتمہ بھی شامل تھا۔ لیکن عالمی ادارےنے کہاہے کہ حالیہ برسوں میں معاشی اور مالیاتی بحرانوں کے سبب یہ ہدف حاصل نہیں کیا جاسکے گا، کیونکہ بے روزگاری نے بہت سے افراد کے منہ کا نوالہ چھین لیا ہے اور ان کے خاندان شدید غربت میں زندگی گذاررہے ہیں۔

سومنر کہتے ہیں کہ ایسے ممالک میں بھی ، جن کی معیشتیں پانچ سے چھ فی صد سالانہ کی رفتار سے ترقی کررہی ہیں، ایسے افراد کی زندگیوں میں بہت معمولی بہتری آئی ہے جن کی فی کس آمدنیاں ایک اور دو ڈالر روزانہ کے درمیان ہیں۔

وہ کہتےہیں کہ غریب افراد کے رہنے کے عمومی طورپر بڑے شہروں میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ وہ مضافاتی کچی بستیوں اور آبادیوں میں رہتے ہیں جہاں بنیادی سہولتیں برائے نام ہوتی ہیں۔ انہیں اکثر اوقات امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یونیورسٹی آف ساسکس کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے کل غریبوں کی آدھی تعداد صرف دو ملکوں میں آباد ہے اور یہ دو ممالک ہیں چین اور بھارت۔ جب کہ ان کی ایک چوتھائی تعداد درمیانی آمدنی کے گنجان آباد ملکوں میں رہتی ہے۔ ان ممالک میں پاکستان ، انڈونیشیا اور نائیجریا شامل ہیں۔ جب کہ باقی ماندہ 25 فی صد کا تعلق کم آمدنی والے غریب ممالک سے ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر گذشتہ 20 سال پر نظر ڈالی جائے تو عالمی سطح پر غربت تو کم ہوئی ہے لیکن غریبوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی۔

سومنر نے مستقبل کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ 2020ء اور 2030ء کے دوران بھی عالمی سطح پر صورت حال میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے اور دنیا بھر کے غریبوں کی نصف تعداد متوسط آمدنی کے ملکوں میں رہ رہی ہوگی۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وسائل رکھنے والے اور وسائل سے محروم طبقات کے درمیان موجود خلیج پاٹنے کی سنجیدہ کوششیں نہ کی گئیں تو آنے والے برسوں میں غریبوں کی تعداد گھٹنے کی بڑھ سکتی ہے۔

تجریاتی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں شدید سطح غربت کے خاتمے کے لیے سالانہ 60 سے80 ارب ڈالر خرچ کرنے کی ضرورت ہے ، تاکہ ان کے لیے روزگار اور دیگر وسائل مہیا کیے جاسکیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG