رسائی کے لنکس

’شدید غربت کے باعث سماجی اقدار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں‘


’پاکستان میں غربت کے باعث بچوں کی کفالت ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ کئی والدین اپنے بچوں کو یا تو بیچ دیتے ہیں یا پھر انھیں سماجی و فلاحی اداروں کے حوالے کر دیتے ہیں‘: ایدھی

سماجی رہنما عبدالستار ایدھی نے کہا ہے کہ جس ملک میں دولت کی تقسیم غلط ہوگی، اس ملک میں غربت جنم لے گی اور والدین اپنے بچوں کی پرورش نہیں کر پائیں گے، جنھیں وہ دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے پر مجبور ہوں گے۔

بدھ کے روز ’ وائس آف امریکہ‘ سے خصوصی گفتگو میں، پاکستان کے نمایاں سماجی کارکن کے بقول، اب صورتحال یہ ہے کہ یہاں چند خاندان اچھی زندگی گزار رہے ہیں، جب کہ تو کئی خاندانوں کے پاس کھانےکے لئے روٹی تک میسر نہیں۔

اُن کے الفاظ میں، بدعنوانی، ٹیکس چوری اور ناجائز طریقے سے دولت حاصل کرنے والے لوگ مزے کر رہے ہیں، جب کہ غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔

عبد الستار ایدھی نے کہا کہ پاکستان میں غربت کے باعث بچوں کی کفالت ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ بقول اُن کے، اب صورت حال یہ ہے کہ کئی ایک والدین اپنے بچوں کو یا تو بیچ دیتے ہیں یا پھر انھیں سماجی و فلاحی اداروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔

کراچی می گزشتہ دو روز قبل چار بچیوں کو انکی پھوپھی کفالت نہ کر پانے کے باعث 'ایدھی ہوم' چھوڑ کر چلی گئی۔ غربت ماں باپ تک کو سنگدل بن دیتی ہے؛ جب کہ اس معاملے، میں بتایا جاتا ہے کہ اِن بچوں کا باپ نشے کا عادی تھا، تو ماں بچوں سمیت شوہر کو گھر چھوڑ کر چلی گئی، جس کے بعد، ان کی کفالت کرنےوالا کوئی نہ تھا۔

ایسے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے عبدالستار ایدھی نے بتایا کہ ’ماں باپ سے بچھڑ جانے کا غم ان بچوں کو ستاتا ہے تو ہم ان کو ذہنی طور بھی یہی سمجھاتے ہیں کہ بلقیس ایدھی تمھاری ماں اور میں باپ ہوں‘۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ، ایسے بچوں کو کچھ بے اولاد ماں باپ گود لینے آجاتے ہیں، جنھیں ہم چھان بین کے بعد، بچے حوالے کرتے ہیں اور خود بھی کفالت کرتے ہیں‘۔

عبدالستار ایدھی کی اہلیہ اور نامور سماجی کارکن، بلقیس ایدھی کا کہنا ہے کہ باپ کمانے کے قابل نہیں ہوتا تو خواتین دوسری شادیاں کر لیتی ہیں، اور اکثر ایسے کیسز میں، بچے ایدھی ہوم چھوڑ دیے جاتے ہیں۔
سماجی رہنما بلقیس ایدھی کی وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے

سماجی رہنما بلقیس ایدھی کی وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے


اُن کے بقول، ’مگر سگے ماں باپ جو محبت کرتے ہیں اسکی کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا‘۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’ماں باپ کی جانب سے عدم توجہی کے باعث، اکثر بچے گھروں سے بھاگ کر بے راہ روی کی جانب چلے جاتے ہیں اور بہت سے بچے نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں'

کراچی کے ایدھی ہوم میں لائی جانے والی چار کمسن بچیوں میں آٹھ سالہ خدیجہ، 7سالہ اقرا، 4 سالہ معصومہ اور ایک برس کی ہادیہ؛ یہ چاروں بدنصیب بچیاں ہیں جن کے ماں باپ ہونے کے باوجود انھیں ایدھی ہوم لایا گیا ہے۔

8 سالہ خدیجہ نے بتایا کہ اُن کی پھوپھی اُنھیں یہاں لائی ہیں۔ اس نے مزید بتایا کہ ’گھر میں کھانے کے پیسے نہیں ہوتے تھے، تو گھر میں لڑائی ہوتی تھی ابو امی لڑتے تھے۔ ابو نشہ کرتے تھے۔ کام نہیں کرتے تھے تو امی گھر چھوڑ کر چلی گئیں‘۔

ایدھی ہوم میں ایسے ہی تین بچے اور تھے جن کے باپ نے انھیں غربت کے باعث یہاں چھوڑدیا۔ دو بھائی اور ایک بہن میں سے ایک بچے نے بتایا کہ ’ابو ہمیں لائے ہیں۔ ابو کہتے ہیں میرے پاس تمھیں کھلانے کیلئے پیسے نہیں ہیں، جبکہ امی ملنے آتی ہیں مگر واپس نہیں لےجاتیں‘۔


لاہور میں ماں نے غربت کے باعث دو بچوں کو قتل کردیا

کراچی میں غربت کے باعث سامنے آنےوالا ابھی یہ واقعہ پرانا نہیں ہوا تھا کہ لاہور میں ایک ماں نے غربت کے باعث اپنے دو ننھے بچوں کو گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا۔

لاہور میں بدھ کے روز دل ہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جسمیں ماں نے اپنے دوسالہ بیٹی اور آٹھ ماہ کی بیٹی کو گلا گھونٹ کر جان سے ماردیا۔

پولیس کے مطابق، ماں نے بیان میں کہا ہے کہ ’بچے تین دن سے بھوکے تھے۔ اسکے پاس ان بچوں کو کھلانے کیلئے پیسے نہیں تھے۔ بھوک نہیں مٹاسکی تو میں نے دونوں بچوں کو ماردیا‘۔

پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ اسکے شوہر کا کہنا ہے کہ وہ کئی ماہ سے بے روزگار ہے۔
XS
SM
MD
LG