رسائی کے لنکس

نو گھنٹے سے زائد گزرنے بعد بھی بعض اضلاع میں اب تک بجلی بحال نہیں ہو سکی ہے۔

نیشنل گرڈ اسٹیشن میں فنی خرابی کی وجہ سے پاکستان کے متعدد بڑے شہر اتوار کی شب تاریکی میں ڈوب گئے۔ خرابی رات گیارہ بجے کے قریب پیدا ہوئی تھی جبکہ چند گھنٹوں بعد کراچی اور ملک کے کچھ دوسرے شہروں میں بجلی بحال ہونا شروع ہو گئی۔

لیکن نو گھنٹے سے زائد گزرنے بعد بھی بعض اضلاع میں اب تک بجلی بحال نہیں ہو سکی ہے۔

ایس ای آپریشن آئیسکو کے مطابق تربیلا اور منگلا ڈیم کے پیداواری یونٹس اچانک ٹرپ کر گئے جس سے بجلی فراہمی بند ہوگئی۔

واپڈا سے بجلی کی فریکوینسی کم ہونے سے کے ای ایس سی کے پاور پلانٹس نے کام کرنا چھوڑ دیا جس کے سبب کراچی میں 27 گرڈ اسٹیشنز سے بجلی معطل ہوئی۔ کے ای ایس سی ہائی ٹینشن لائن بھی ٹرپ ہو گئی جس سے 60 فیصد سے زائد شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔
کراچی کو بجلی سپلائی کرنے والی 22 کے وی لائنوں کے بارے میں بھی ٹرپ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، لیاقت آباد، کلفٹن، ڈیفنس، گلشن اقبال، صدر، لیمارکیٹ، تین ہٹی، جمشید کوارٹر، لانڈھی، کورنگی، ملیر اور شاہ فیصل کالونی سمیت کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوئی اور رات ایک بجے تک اس کی بحالی نہیں ہوسکی تھی۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گدو میں بجلی کی 220 کلو واٹ کی ٹرانسمیشن لائن میں فنی خرابی کے سبب کوئٹہ سمیت بلوچستان کے ایک درجن سے زائد اضلاع اندھیرے میں ڈوب گئے۔ جامشورو تھرمل پاور پلانٹ کے یونٹ نمبر 2 نے بھی فنی خرابی کے باعث کام کرنا بند کر دیا جس کے بعد سندھ میں حید رآباد، ٹنڈو محمد خان، مٹیاری، بدین اور نوابشاہ سمیت کئی شہروں کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔

پنجاب کے کئی شہروں میں بھی صورت حال مختلف نہیں، لاہور میں بھی بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ بجلی کی بندش کے باعث ایئرپورٹ پر جنریٹر کے ذریعے کام چلایا جارہا ہے جبکہ اسلام آباد، راولپنڈی سمیت پورے پوٹھوہار ریجن اور وسطی پنجاب میں بھی بجلی کی فراہمی معطل ہے۔
XS
SM
MD
LG