رسائی کے لنکس

پیپلز پارٹی پنجاب کے چیف الیکشن کمشنر پرتحفظات

  • کراچی

پیپلز پارٹی پنجاب

پیپلز پارٹی پنجاب

پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کی قیادت نے چیف الیکشن کمشنرجسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے اور مشورہ دیا ہے کہ ان کا عہدہ غیرجانبدار ہے، انہیں سیاست پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔

فخر الدین جی ابراہیم چیف الیکشن کمشنر کے سربراہ کیلئے مسلم لیگ ن کے نامزد امیدوار تھے اور حکمراں جماعت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان انہیں اس عہدے کا سربراہ مقرر کرنے پردونوں میں اتفاق ہوا تھا۔

دو روز قبل فخرالدین جی ابراہیم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عشروں پہلے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک میں سیاسی انتشار بڑھے گا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت کسی سیاستدان کے خلاف کارروائی کی گنجائش نہیں۔

الیکشن کمیشن کےسربراہ نے مزید کہا تھا کہ ماضی میں ہر کسی سے غلطیاں ہوئی ہیں، ماضی میں سپریم کورٹ نے بھی فوجی حکمرانوں کے اقتدار کو جائزقرار دیا تھا اور ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھائے تھے۔

بدھ کو فخر الدین جی ابراہیم کے مذکورہ بیان سے پیپلزپارٹی پنجاب کی قیادت نے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا اور اس طرح کا بیان دینے سے اجتناب برتنا چاہیے تھا۔

پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر کا کہنا تھا کہ اب جب کہ مسلم لیگ ن کی قیادت پر آئی ایس آئی سے پیسے لینے کا الزام ثابت ہو چکا ہے تو نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب کو سیاست چھوڑ دینی چاہیے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ 1990ء کے انتخابات میں وہ بھی مسلم لیگ کا حصہ تھے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں سے کامیاب ہوئے تھے لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ قیادت نے انتخابات میں دھاندلی کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔

اس موقع پر پیپلزپارٹی پنجاب کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ غیر جانبدار ہوتا ہے، فخر الدین جی ابراہیم کو غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ایسی بات سے اجتناب کرنا چاہیے جو ملک کی سیاست پر اثر انداز ہوں۔
XS
SM
MD
LG