رسائی کے لنکس

قومی اسمبلی میں اسپیکر کی اجازت کے بغیر اسامہ کے لئے فاتحہ خوانی


قومی اسمبلی میں اسپیکر کی اجازت کے بغیر اسامہ کے لئے فاتحہ خوانی

قومی اسمبلی میں اسپیکر کی اجازت کے بغیر اسامہ کے لئے فاتحہ خوانی

پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بحث دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے اور اس حوالے سے متضاد خیالات اب ملک کے گلی کوچوں اور سڑکوں سے ہوتے ہوئے اعلیٰ ایوانوں تک جا پہنچے ہیں۔

اسامہ کی ہلاکت کو ایک جانب تو ملکی قیادت سمیت بہت سے حلقوں میں دہشت گردی کے خلاف 'عظیم فتح' قرار دیا جارہا ہے تو دوسری جانب مختلف مذہبی و جہادی حلقوں میں القاعدہ رہنما کو 'شہید عظیم' کا لقب دیتے ہوئے اسامہ کی موت کے خلاف مظاہرے کئے جارہے ہیں۔۔۔ لیکن منگل کو یہ بحث اس وقت ایک نیا رخ اختیار کر گئی جب قومی اسمبلی میں اسپیکر سے اجازت لیے بغیر اسامہ کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔

قومی اسمبلی میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے رکن مولوی عصمت اللہ نے کہا کہ اسامہ بن لادن مسلمان تھے اس لئے ان کیلئے فاتحہ خوانی ہونی چاہیے۔ فاتحہ خوانی میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے بھائی مولانا عطاء الرحمن اور مسلم لیگ (ق) کے شاہجہاں یوسف بھی شریک ہوئے ۔

مولوی عصمت اللہ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں بلوچستان کے علاقے ژوب، حلقہ 264 سے کامیاب ہوئے تھے اور گزشتہ سال جون میں انہوں نے جے یو آئی( ف) سے مستعفی ہو کر جے یو آئی نظریاتی کے نام سے ایک نئی جماعت قائم کی تھی۔

مولوی عصمت کی اس عمل سے ایوان میں شدید بے چینی پھیل گئی اور ڈپٹی اسپیکر بھی اس مسئلے پر خاموش نہیں رہ سکے اور انہوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولوی عصمت اللہ کو اسامہ کی فاتحہ خوانی کے لئے اجازت لینی چاہیے تھی ۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ انتہاپسند سوچ رکھنے والے ہر جگہ موجود ہیں تاہم انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر منافقت کی پالیسی پر چلیں گے تو اس کا رد عمل ہر جگہ نظر آئے گا۔

دوسری جانب مولانا عطاء الرحمن، اسامہ بن لادن کی بھر پور حمایت میں بول رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسامہ کی پاکستان میں ہلاکت ذلت کا باعث نہیں۔ دنیا کچھ بھی کہے ہمیں اس کی پروا نہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسامہ بن لادن کے لئے مسلمانوں کے دلوں میں جو قدر ہے اسے کوئی کم نہیں کر سکتا ۔

مبصرین کے مطابق اگرچہ اس سے قبل گورنر سلمان تاثیر کے قتل اور ریمنڈ ڈیوس کے واقعے کے علاوہ مختلف مواقع پر قوم کے خیالات میں واضح تضاد پایا گیا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے جب اسامہ کی شخصیت کے بارے میں قومی اسمبلی میں بھی شدید اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔

مبصرین اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس پرابھی سے توجہ نہ دی گئی تو آنے والے وقتوں میں ملک میں موجود مختلف دھڑے آپس میں زور آزمائی کرتے نظر آئیں گے۔ دوم اگر پالیسی ساز ادارے نان ایشوز پر بحث میں الجھ گئے تو اصل مسائل کی جانب توجہ کون دے گا؟

XS
SM
MD
LG