رسائی کے لنکس

قبل از وقت عمر بڑھنےکی لاعلاج بیماری میں مبتلا بوڑھی نظر آنے والی برطانوی لڑکی ہیلی اوکائنس جمعرات کی شب انتقال کر گئی۔

غیر معمولی جنیاتی بیماری کا شکار 17 سالہ ہیلی اوکائنس جسے 100 سالہ نوجوان لڑکی کے طور پر جانا جاتا ہے ،اب اس دنیا میں نہیں رہی ہے۔

قبل از وقت عمر بڑھنےکی لاعلاج بیماری میں مبتلا بوڑھی نظر آنے والی برطانوی لڑکی ہیلی اوکائنس جمعرات کی شب انتقال کر گئی۔

​ ایسٹ سسیکس کی رہائشی ہیلی اوکائنس جینیاتی خرابی کی بیماری 'پروجیریا ' کے ساتھ پیدا ہوئی تھی، اس غیر معمولی بیماری کی وجہ سے بچوں کی عمر عام شرح کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے۔

دنیا بھر میں اس غیر معمولی بیماری میں مبتلا بچے جسمانی طور پر بوڑھے نظر آتے ہیں، لیکن ان کی بیماری کا مریض کے دماغ پر اثر نہیں ہوتا ہے۔

لہذا ہیلی بھی ایک جوان لڑکی کی طرح سوچتی تھی اور اسکےجذبات بھی امنگوں سے بھرے تھے جس کا اظہار اس نے اپنی سوانح حیات 'اولڈ بی فور مائی ٹائم 'میں کیا ہے۔

’’میری بیماری نے میرے جسم کو سو سال کا بوڑھا کر دیا ہے لوگ مجھے بوڑھا پکارتے ہیں ،جو مجھے اچھا نہیں لگتا ہے ۔ وہ مجھ سے بچوں جیسا برتاؤ کرتے ہیں جو مجھے پسند نہیں ہے بقول ہیلی ،میں بھی اندر سے آپ جیسی ہوں ہم سب ایک جیسے انسان ہیں۔‘‘

​ہیلی کی والدہ کیری نے جمعرات کو فیس بک پر ایک پیغام میں لکھا کہ’’میری بچی اب اس دنیا سے کہیں بہتر مقام پر چلی گئی ہے اس نے آج رات میرے بازوں میں آخری سانس لی تھی۔‘‘

​ہیلی اوکائنس کو تین برس قبل برطانوی ٹیلی وژن کی ایک دستاویزی فلم میں دیکھا گیا تھا جس میں ہیلی نے اپنی غیر معمولی بیماری اور اپنی حالت کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی تھی۔

ہیلی کو حال ہی میں نمونیا کی وجہ سے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا وہ اور جمعرات کو اسپتال سے گھر آئی تھی اور اسی شب اس کا انتقال ہو گیا ۔

پروجیریا نامی غیر معمولی بیماری میں مبتلا مریضوں کی عمر آٹھ گنا تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے یہ ضعیف نظر آتے ہیں۔ جس کے ساتھ گنجا پن جوڑوں کا درد اور دل کے مسائل کا بھی شکار رہتے ہیں۔

اس بیماری کے ساتھ اوسط عمر 13 برس ہے۔ دنیا بھر میں اس غیر معمولی بیماری کے کیسسز کی تعداد 74 ہے جبکہ برطانیہ میں4 افراد اس جینیاتی بیماری کا شکار ہیں۔

اگرچہ جدید علاج و معالجے کی سہولیات نے ہیلی کی زندگی میں چند سالوں کا اضافہ کر دیا تھا،لیکن ہیلی اپنی بیماری سے جیتنے میں ناکام ہو گئی ۔

چینل 5 کے انٹرویو میں ہیلی کی والدہ کیری کہتی ہے کہ ہیلی جب پیدا ہوئی تو اس کے بال سنہرے اور آنکھیں نیلی تھیں ،اس نے دس ماہ میں چلنا شروع کر دیا تھا ہم اس کی طرف سے بہت خوش تھے۔

لیکن ایک بات ہمیں تشویش میں مبتلا رکھتی تھی اور وہ ہیلی کا وزن اور جسامت تھی جو بڑھتی دکھائی نہیں دے رہی تھی وہ تیرہ ماہ میں تین ماہ کی بچی کا لباس پہنتی تھی لہذا ہم نے ہیلی کا ڈاکٹر سے معائنہ کرایا اور چھ ماہ بعد ٹیسٹ کے نتائج میں انکشاف ہوا کہ ہیلی ایک ایسی غیر معمولی بیماری میں مبتلا ہے جس میں بچے قبل از وقت عمر کی وجہ سے بوڑھے دکھائی دیتے ہیں ۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ مرض لاعلاج ہے اور اس بیماری کے ساتھ مریض کی زندگی بہت مختصر ہوتی ہے ۔

کیری کہتی ہے کہ یہ ایک بہت مشکل حالت ہےخود ہیلی کے لیے بھی جس کا دماغ ایک عام جوان لڑکی جیسا تھا لیکن وہ ایک بوڑھے جسم کے اندر قید تھی۔

ہیلی نے اپنی مختصر سی زندگی میں ڈولفن مچھلیوں کے ساتھ تیراکی کی ہے اور دنیا گھومی۔

اس نے کئی دستاویزی فلموں میں کام کیا ہے اور 14 سال کی عمر میں اپنی سوانح حیات لکھی ہے ،جس میں وہ بتاتی ہے کہ اس طرح کی بیماری کے ساتھ وہ اپنی زندگی میں کس طرح آگے بڑھا رہی ہے جبکہ پاپ گلوکاروں کے لیے اپنی پسندیدگی اور اسکول کی بہت سی باتوں کا ذکر بھی کرتی ہے ۔

وہ لکھتی ہے کہ میرا نام ہیلی اوکائنس ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں بہت خاص ہوں ۔

میری ممی کہتی ہے کہ میں آٹھ ملین لوگوں میں سے ایک ہوں کیونکہ میری بیماری بہت غیر معمولی ہے ۔

وہ لکھتی ہے کہ ،میں خود کو کئی طر ح سے خوش قسمت تصور کرتی ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں کی ہیں اور دنیا گھومی ہے جبکہ بہت سے لوگ اپنی پوری زندگی میں ایسا نہیں کر پاتے ہیں۔

ہیلی نے لکھا کہ 3 دسمبر 2011 میری عمر ٍ14 سال کی ہو گئی ہے، مجھے مرنے سے ڈر نہیں لگ رہا ہے ہو سکتا ہے ماہرین کے اندازے غلط ثابت ہو جائیں۔

ہیلی نےامید ظاہر کی تھی کہ ایک دن وہ اپنے ڈاکٹروں کو غلط ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔

XS
SM
MD
LG