رسائی کے لنکس

پاکستان دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے میں پُرعزم ہے: ترجمان


قاضی خلیل اللہ

قاضی خلیل اللہ

’پاکستانی عوام اور حکومت، افغانستان کی حکومت اور عوام کے دکھ درد کا بخوبی ادراک کر سکتے ہیں، ایسے میں جب حالیہ دِنوں کے دوران دہشت گرد حملوں کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور بیسیوں افراد زخمی ہوئے ہیں‘

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ خود دہشت گردی کا شکار ہے، اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی اور شدت پسندوں کو ٹھکانے لگانے کے عزم پر قائم ہے۔

یہ بات پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے پیر کے روز وائس آف امریکہ کی ڈیوا سروس سے بات کرتے ہوئے کہی۔

وہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کے بیان پر تبصرہ کر رہے تھے، جس میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’وہ اپنے ہاں طالبان کی پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کرے‘۔ واضح رہے کہ پیر کو کابل میں ہوائی اڈے کے داخلی راستے کے قریب ایک خودکش کار بم دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور 15 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

جب پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سے افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے متعلق سوال پوچھا گیا، تو ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پُرعزم ہے۔

ساتھ ہی اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان افغان قیادت اور افغانستان کی جانب سے کی جانے والی امن اور مفاہمتی عمل کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے‘۔

قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ پاکستان نے صدر اشرف غنی کی اخباری کانفرنس میں اٹھائے گئے نکات پر توجہ مبذول کی ہے۔

بقول ترجمان، ’پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہے۔ اور اب تک ہم 60000 سے زائد جانیں قربان کر چکے ہیں‘۔

ترجمان نے مزید کہا کہ، ’اِس لیے، پاکستانی عوام اور حکومت افغانستان کی حکومت اور عوام کے دکھ درد کا بخوبی ادراک کر سکتے ہیں، ایسے میں جب حالیہ دِنوں کے دوران دہشت گرد حملوں کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد انسانی جانیں ضائع جب کہ بیسیوں افراد زخمی ہوئے ہیں‘۔

XS
SM
MD
LG