رسائی کے لنکس

القاعدہ امریکہ کی پہنچ سے بچ نہیں سکتی، اوباما


القاعدہ امریکہ کی پہنچ سے بچ نہیں سکتی، اوباما

القاعدہ امریکہ کی پہنچ سے بچ نہیں سکتی، اوباما

صدر براک اوباما نے اسٹیٹ آف دی یونین سے سالانہ خطاب میں کہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ سال خارجہ پالیسی میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں اور انھوں نے خاص طور پر عراق اور افغان جنگ کا ذکر کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ القاعدہ کے کمانڈر راہ فرار اختیار کیے ہوئے ہیں جو اس سے باخبر ہیں کہ وہ امریکہ کی پہنچ سے نہیں بچ سکتے۔ امریکی صدر نے افغانستان میں جاری جنگ میں پیش رفت اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا تذکرہ بھی کیا اور کانگریس پر زور دیا کہ عراق جنگ کے خاتمے سے بچنے والی رقم کو قومی قرضوں کی ادائیگی اور انتظامی ڈھانچے کی بحالی پر صرف کیا جائے۔

اسٹیٹ آف دی یونین سے اپنے تیسرے سالانہ خطاب میں صدر اوباما نے اقتصادی بحالی کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف امیروں کے لیے نہیں بلکہ تمام لوگوں کے لیے کام کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ یہ اقتصادیات کا ایک ایسا منصوبہ ہے جو ’’قائم رہنے‘‘ کے لیے بنایا گیا ہے۔

امریکی صدر نے ریپبلیکن قانون سازوں کو متنبہ کیا کہ اقتصادی حالت کی بہتری کے لیے وہ ہر طرح سے لڑیں گے۔

مسٹر اوباما نے ایک گھنٹے سے زائد کے اپنے خطاب میں عالمی سطح پر امریکہ کی رہنما کوششوں بشمول ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے سے نمٹنے کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ امریکہ کے اثرورسوخ میں کمی واقع ہوئی ہے تو وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ دنیا بدل رہی ہے لیکن ’’ عالمی امور میں امریکہ ایک ناگزیر قوم ہے۔‘‘

اسٹیٹ آف دی یونین سے خطاب میں صدر اوباما نے کہا کہ انھیں اس میں ’’کوئی شک نہیں‘‘ کہ شام کی حکومت کو جلد معلوم ہو جائے گا کہ ’’تبدیلی کی قوتیں اب پلٹی نہیں جاسکتیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ مشرق وسطیٰ کے عوام خود کریں گے لیکن امریکہ ’’تشدد اور دھونس‘‘کی مخالفت اور ’’تمام انسانوں کے حقوق اور وقار‘‘ کی حمایت کرے گا۔

XS
SM
MD
LG