رسائی کے لنکس

صدراوباما کا مزاج اور ریاست ہوائی کی روایات


صدر اوباما کے مشاورت کاروں کا کہنا ہے کہ صدر اوباما ِ فیصلہ سازی میں اس وکیل کی طرح ہیں جو اپنے کیس کے ہر پہلو کا جائزہ لیتا ہے


صدر اوباما کو صدارتی منصب سنبھالے ہوئے ایک سال ہی ہوا ہے مگر کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدارتی فرائض نبھانے میں انہوں نے اپنا الگ ہی انداز اپنایا ہے۔ جو ان کی پوری زندگی کے تجربات کا نچوڑ دکھائی دیتا ہے۔

صدر اوباما کی صدارت کا آغاز لاکھوں کے مجمعے کے سامنے ہوا ۔لیکن تالیوں کا شور تھمنے کی دیر تھی کہ اوپر تلے انہیں کئی مسائل نے آلیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک عام صدر کو دو سے تین بڑی جبکہ مجھے سات سے آٹھ بڑے مسائل ورثے میں ملے ۔

صدر اوباما ان مشکلات کا سامنا کرتے آگے بڑھتے رہے۔ اورجلد ہی ان کی ایک متوازن اور پرسکون مزاج کے صدر کے طورپر بن گئی۔

ریاست ہوائی کے لوگ اس مزاج کو اپنی زمین کا تحفہ سمجھتے ہیں ۔ سٹاک مین کہتے ہیں کہ ان کے مزاج کا ٹہراو ہوائی کے مزاج کا خاصا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ہوائی میں پیدا ہونے والے پہلا امریکی صدر اپنی ریاست کا مزاج وائٹ ہاؤس تک لے آیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم یہ چیز ان کے انداز اور ان کی تقریروں میں محسوس کرتے ہیں۔ وہ ALOHA کی ثقافت کی ترجمانی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

سٹاک مین کا کہنا تھا کہ کہ ALOHA کے معنی زندگی کی سانس کے ہیں۔ یہ اجتماعیت پر مبنی ثقافت ہے جس میں سبھی کو ساتھ لے کر چلنے پر زور دیا جاتا ہے ۔

کین والش نے امریکی رسالوں یوایس نیوز اور ورلڈ رپورٹ کے لیے اوباما کی صدارتی تاریخ مرتب کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اوباما تنازعوں میں الجھنے والے شخص نہیں ہیں ،وہ ہر کام کو سلیقے سے کرنے کے عادی ہیں اور ان کی یہ عادت ہوائی سے آئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہوائی کی ثقافت کا اثر اوباما کی پوری زندگی پر دکھائی دیتا ہے۔ جس کی ابتدا شکاگو میں کمیونٹی آرگنائزر کے طور پر ہوئی۔ اور اوباما کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ لوگ اپنے کام خود کریں ، اور سب مل کر کام کرنا سیکھیں ۔

والش کا کہناتھا کہ کام میں دوسروں کو شامل کرنے کی یہی خو ہم ان میں بطور قانون کے طالب علم اور پروفیسر دیکھتے ہیں۔ یہیں سے براک اوباما نے قوت ِ فیصلہ اور مسائل کا حل خود ڈھونڈنا سیکھا۔

جانسن وائن برگر ، شکاگو لاء سکول میں اوباما کے طالب علم رہ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی کلاس میں اگر آپ ڈسکشن میں حصہ نہیں لیتے تھے تو یہ ایسا ہی تھا کہ آپ کلاس کے لیول کے نہیں تھے۔ ایسا دیگر ہر کلاس میں نہیں ہوتا تھا۔ یہ سب پروفیسر کی وجہ سے تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر اوباما اپنے طلبا پر زور دیتے تھے کہ وہ ایک کیس کے ہر نکتے پر غور کریں اور مکمل معلومات حاصل کریں ۔

جانسن کا کہنا ہے کہ میں سوچتا ہوں کہ وہ حکومتی امور بھی اسی طور چلاتے ہوں گے جیسا کہ وہ اپنا کلاس روم چلاتے تھے ،جہاں کوئی اپنا منہ بند نہیں رکھ سکتا تھا ۔میرا خیال ہے ان کی ٹیم کا کام ہوگاکہ اپنا کیس مضبوطی سے پیش کرے ۔

صدر اوباما کے مشاورت کاروں کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بھی کام اسی طرح ہوتا ہے۔ صدر اوباما ِ فیصلہ سازی میں اس وکیل کی طرح ہیں جو اپنے کیس کے ہر ہر پہلو کا جائزہ لیتا ہے ۔ جبکہ اپنےعوامی خطا بات میں وہ ماہر تعلیم دکھائی دیتے ہیں۔

ارتھا کمار ٹاؤ سن یونیورسٹی میں سیاسیات پڑھاتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ بڑے مسئلوں سے نمٹنے کے لیے چیزوں کو اکٹھا کرکے رکھتے ہیں اور یہی رویہ ہمیں ان کے سمجھانے کے انداز میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ وہ پسند کرتے ہیں کہ کسی معاملے کے ہر پہلو کو وضاحت سے بیان کریں ۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر صدر اپنے پرانے تجربات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ براک اوباما کے معاملے میں ان کے تجربوں نے انہیں ہر معاملے سے ناقدین کے مطابق غیر جذباتی انداز سے نمٹنا سکھایا ہے ۔لیکن کین والش کہتے ہیں کہ صدر اوباما اپنے تبدیلی کے نعرے کو سچا کر کے دکھائیں گے ۔

وہ کہتے ہیں کہ اس وقت جب صدر اوباما اپنے دور ِ صدارت کے دوسرے سال میں داخل ہو رہے ہیں سوال یہ ہے کہ جن خصوصیات نے انہیں صدارت دلوائی ، وہ انہیں نتائج حاصل کر کے بھی دے سکیں گی یا نہیں ۔

XS
SM
MD
LG