رسائی کے لنکس

صدارتی نامزدگی کی دوڑ، امیدواروں کے درست اور غلط دعوے


ریپبلکن مباحثہ

ریپبلکن مباحثہ

کرس کرسٹی نے کہا ہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار برنی سنڈرز نے حکومتی پروگرام پر اٹھنے والے بھاری اخراجات کو پورا کرنے کے لئے 90 فیصد ٹیکس اضافے کا منصوبہ بنایا ہے۔ تاہم، ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے لکھا ہے کہ اگر وہ منتخب ہوگئے تو ٹیکسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ لیکن، اتنی مقدار میں نہیں

ماہرین ریپبلکن پارٹی کے مباحثے کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، جس میں صدارتی نامزدگی کے لئے امیدواروں میں کچھ تو ’صحیح‘ بات کر رہے ہیں تو کچھ ’غلط‘ اور کچھ تو ’قطعی طور پر غلط‘ باتیں کر رہے ہیں۔

نیوجرسی کے گورنر کرس کرسٹی نے کہا ہے کہ ڈیموکریٹ امیدوار برنی سنڈرز نے حکومتی پروگرام پر اٹھنے والے بھاری اخراجات کو پورا کرنے کے لئے 90 فیصد ٹیکس اضافے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے لکھا ہے کہ اگر وہ منتخب ہوگئے تو ٹیکسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ لیکن، اتنی مقدار میں بھی نہیں۔ اخبار نے کرسٹی کے دعوے کو غلط قرار دیا ہے۔

سابق نیورو سرجن، بین کارسن، جنھیں رائے عامہ کے سروے میں مسلسل مقبولیت حاصل ہو رہی ہے، کہتے ہیں کہ ان کا تعلق ایک ایسی کمپنی سے ہے، جو مصنوعات کا پروپگنڈا کرتی ہے۔ مناٹیک نے اپنی مصنوعات سے متعلق جھوٹا پروپگنڈہ کیا جس پر انھیں 7 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ پولی ٹیک فیکٹ نے ان ریمارکس کو غلط قرار دیا اور کہا ہے کہ اس نے معاوضہ لے کر تقریر کی تھی اور پروموشن ویڈیو میں پیش ہوئے تھے۔

فلوریڈا کے سنییٹر مارکو روبیو کو قومی صدارتی مہم کے دوران واشنگٹن کے دورے میں بہت سے ووٹوں سے محرومی پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ روبیو کا کہنا ہے کہ انھیں صدر اوباما سمیت دیگر سنییٹررز سے کہیں زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ پولی ٹیفکٹ نے اسے درست قرار دیا ہے۔

جائیداد کی تجارت سے وابستہ اور ریلٹی ٹیلی ویژن پروگرام کے اسٹار، ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ انھوں نے مزید ہنرمند ورکرز کے لئے ویزا پروگرام کے حوالے سے روبیو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ لیکن، حقیقیت جاننے والوں نے واضح کیا کہ خود ٹرمپ کے ویب سائیٹ پر موجود مواد میں روبیو اور دیگر پر تنقید موجود ہے۔

سابق تجارتی شخصیت، کارلے فارینا کہتی ہیں کہ امریکی خواتین صدر اوباما کے پہلے دور میں ملازمتوں سے محروم ہوئیں۔ لیکن، حقیقی صورتحال پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اوباما دور کے ابتدا کی حد تک تو درست ہوسکتی ہے، لیکن پورے چار سالہ دور کا جائزہ لیا جائے تو معاشی بحالی کے نتیجے میں مردوں اور عورتوں دونوں کو ملازمیں ملیں۔

امریکہ کی اہم سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے بیان کی صداقت، سیاق و سباق اور سچائی پر نظر رکھنے والوں نے صحافت کا ایک نیا شعبہ کھڑا کیا ہے، جسے اہم اخبارات اور کچھ غیر منافع بخش گروپوں کی جانب سے ’حقیقت کی جانچ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

صحافی اور دیگر اسٹاف اعداد و شمار اور ماہرانہ سوالوں سے اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون سا بیان درست ہے اور کون سا نہیں۔

کچھ کیسز میں یہ آرگنائزیشن اپنا نقطہٴنظر پیش کرتی ہیں اور اس بیان کو وہ بچوں کی کتاب کے اس کردار سے مشابہت دیتی ہیں جو جب بھی جھوٹ بولتا ہے تو اس کی ناک ڈرامائی انداز سے لمبی ہوجاتی ہے، اور بچے اس پر جھوٹا جھوٹا کی صدا لگاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG