رسائی کے لنکس

’شام، عراق اور یوکرین میں جاری تنازعات کے باعث شدید جانی نقصان ہوا۔ داعش اور بوکو حرام جیسے شدت پسند باغی گروہوں نے مذہب کے نام پر رپورٹروں کے ساتھ ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کرنے کی اپنی زیادتیاں تیز تر کردیں‘

سال 2014ء میں دنیا بھر میں آزادی صحافت زوال پذیر رہی۔ ’رپورٹرز ودھاؤٹ بارڈرز‘ کی ایک نئی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ سال جائرہ لیے گئے دو تہائی ممالک میں صورت حال بدتر رہی۔ اس زوال کا زیادہ تر سبب مسلح تنازعات اور غیر سرکاری عناصر، مثلاً داعش کی شدت پسندی تھی۔

سنہ 2014میں ہر براعظم پر میڈیا کارکنوں کو دھمکیاں دینے کا رجحان بڑھا۔ عراق میں صحافیوں کو پھانسیاں دی گئیں، وہ امریکہ میں گرفتار ہوئے، جب کہ اُن حکومتوں نے اُنھیں ہدف بنایا جو خبروں پر پہرے لگانا چاہتی ہیں۔

’رپورٹرز ودھاؤٹ بارڈرز‘ کی امریکی شاخ کی سربراہ، ڈیلفائن ہالگند نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ اُنھیں اِسی بات کا ڈر تھا کہ پچھلے سال کی خونریزی کے واقعات کے بعد منفی اعداد و شمار جنم لیں گے۔

ہالگند کے الفاظ میں، 2014ء کے دوران تشدد کے سنگین واقعات ہوئے جن میں 66 صحافی ہلاک ہوئے۔ شام، عراق، لیبیا اور یوکرین میں فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں صحافیوں کی بھرمار رہی۔ گذشتہ برس کے اختتام پر کم از کم 40 صحافی اغوا ہوئے جو اب تک یرغمال ہیں۔

سنہ 2013 میں آزادی صحافت کے خلاف اقدامات میں آٹھ فی صد اضافہ دیکھا گیا، جو صورت حال جائزے میں شامل 180 ملکوں کی اکثریت میں موجود تھی۔

متواتر پانچویں سال، فِنلینڈ بہترین کارکردگی کی مثال بنا رہا، جس نے یورپ اور بلقان کا سر بلند کیا، حالانکہ خطے میں آزادی صحافت کی سطح میں کمی واقع ہوئی۔ اس اعتبار سے، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سب سے نچلی سطح پر رہے۔

شام، عراق اور یوکرین میں جاری تنازعات کے باعث شدید جانی نقصان ہوا۔ داعش اور بوکو حرام جیسے شدت پسند باغی گروہوں نے مذہب کے نام پر رپورٹروں کے ساتھ ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کرنے کی اپنی زیادتیاں تیز تر کردیں۔

آزادی اظہار کے ضمن میں، امریکہ کی سطح تین نکات نیچے گِر کر،49 ویں مقام پر پہنچی۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مِزوری کی مرکزی امریکی ریاست میں اُن صحافیوں کو حراست میں لیا گیا جو اپنے فرائض انجام دے رہے تھے، جہاں ہلاکت کے ایک واقع کے بعد کئی ہفتوں تک احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام پسند دہشت گرد، لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے منشیات کے اسمگلر اور مافیا کی طرح کے غیر سرکاری عناصر، ’اُن صحافیوں اور بلاگرز کو جو تفتیشی رپورٹیں تحریر کرتے ہیں یا کسی کا آلہ کار بننے سے انکار کرتے ہیں، اُنھیں خاموش کرانے کے لیے ڈر خوف اور اذیت ناک نتائج کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔‘

آزادی اظہار کے ضمن میں نچلے درجے پر شمار کیے جانے والے 20 ممالک میں سے 15 نے اِس سال پہلے سے بھی زیادہ بُری کارکردگی دکھائی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں صورت حال بدترین رہی۔ سنہ 2002کی پہلی سالانہ عالمی آزادی صحافت کی فہرست سے لے کر آج تک، ایران نچلی ترین سطح پر براجمان رہا ہے۔

وہاں درجنوں صحافی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، جن میں امریکی صحافی، جیسن رضائیاں بھی شامل ہیں۔ تہران میں تعینات ’دِی واشنگٹن پوسٹ‘ کے بیورو چیف کو جولائی سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، حالانکہ اُن کے خلاف اب تک فردِ جرم تک عائد نہیں کی گئی۔

جن ملکوں میں بہتری کے آثار ہیں، اُن میں جورجیا، آئیوری کوسٹ اور نیپال شامل ہیں، جو فہرست میں 15ویں درجے سے اوپر آچکے ہیں، جہاں صحافیوں کی بہتری کے لیے قانونی اصلاحات کی گئی ہیں اور اُن کے تحفظ کے لیے بہتر اقدام لیے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG