رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے

  • صلاح احمد

امریکہ کے شہری آزادیوں کے لیڈر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی 83 ویں سالگرہ کے موقعے پر فلاڈفیا انکوائیرر اخبار ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ 4 اپریل 1968 کو جب وہ ایک قاتل کی گولی سے ہلاک ہوئے تو اپنے پیچھے یہ نامکمّل خواب چھوڑ گئے کہ ہر رنگ و نسل کے تمام انسانوں کومساوات ، آزادی اور انصاف کا حق حاصل ہے۔

امریکہ کے شہری آزادیوں کے لیڈر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی 83 ویں سالگرہ کے موقعے پر فلاڈفیا انکوائیرر اخبار ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ 4 اپریل 1968 کو جب وہ ایک قاتل کی گولی سے ہلاک ہوئے تو اپنے پیچھے یہ نامکمّل خواب چھوڑ گئے کہ ہر رنگ و نسل کے تمام انسانوں کومساوات ، آزادی اور انصاف کا حق حاصل ہے۔ لیکن اخبار افسوس کے ساتھ کہتا ہے کہ اس ملک میں کسی طبقے نے عدم مساوات کا اتنا بوجھ نہیں اُٹھایا ہے جتنا کہ سیاہ فام جوان مردوں نے۔ اخبار کہتا ہے کہ سفید فاموں کے مقابلے میں ان کی بے روزگاری کی شرح دوگنی ہے۔اگرچہ اس حقیقت کے پیش نظر یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ 12 لاکھ سیاہ فام مرد تعلیم ادھوری چھوڑ کر سکول چھوڑ جاتے ہیں ۔ فلاڈلفیا اور دوسرے بڑے شہروں میں ایسے لوگوں کا تناسُب تقریباً نصف ہے۔ ان کی تعلیمی محرومی اور بے روزگاری کی وجہ سے سفید فاموں کے مقابلے میں وہ جیل بھی زیادہ کاٹتے ہیں۔ اور اگرچہ یہ سیاہ فام ملک کی کل آبادی کا صرف 6 فی صد ہیں۔ جیلوں میں ان کا تناسب 40 فی صد ہے ۔ یہ اعداد وشمار حوصلہ شکن ضرور ہیں۔ اور مارٹن لوتھر کنگ نے جو خواب دیکھا تھا وہ بے شمار لوگوں کے لئے ابھی تک مُبہم ہے لیکن وہ یقیناً ان لوگوں پر فخر کریں گے جو ان کے خواب کو شرمندہء تعبیر کرنے کےلئے کسی کا انتظار کئے بغیر خود میدان عمل میں اتر آئے ہیں۔

دس سال پہلے قائم ہونے والا گوانٹانامو کا قید خانہ ہمیں ابھی تک نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس عنوان سے کالم نگار ، لُوئی سپیخٹ سین فرانسسکو کرانیکل میں ککھتے ہیں کہ یہ قید خانہ ان لوگوں کے لئے بنا تھا جو امریکہ کے خلاف دہشت گرد کاروائیاں کر نے میں ملوّث ہوں ۔ اور اس وقت بھی وہاں 171 افراد قید ہیں جن کے رہا ہونے یا جن پر مقدّمہ چلنے کا کوئی حقیقی امکان موجود نہیں ہے ۔بش انتظامیہ کے عہدیدار یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے ، گوانٹا نامو ، عراق ، افغانستان ، اور مزید ایسےملکوں میں ، جہاں خفیہ قید خانے تھے ، قیدیوں پر تشدّد کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں ۔ لیکن کسی شخص کا ابھی تک امریکی قانون کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں احتساب نہیں کیا گیا ۔ کالم نگار کا کہنا ہےکہ ان کی غیر قانونی حرکتوں اور اب قومی دفاع سے متعلق نئےایکٹ کی وجہ سےقانون اور اخلاقی معیا ر کے اُس بنیادی ڈھانچے کی بیخ کنی ہوتی ہےجو امریکیوں کا طُرّہ ء امتیاز رہا ہے۔

کالم نگار کا کہنا ہے کہ جب بُش انتظامیہ کے عہدہ داروں نے فوجیوں اور سویلین ٹھیکے داروں کو ایذا رسانی کے حربوں سے کام لینے کو کہا تو انہو ں نے امریکہ کے قانونی اختیار کا غلط استعمال کیا ۔ اور اس طرح عراق ، افغانستان اور وسط مشرق کے دوسرے ملکوں کے لوگوں کی زندگیوں میں ننگی طاقت کو بروئے کار لایا گیا جن میں سے بیشتر کا دہشت گردی میں کوئی ہاتھ نہیں تھا۔

کالم نگار کا کہنا ہے کہ ڈیفنس ایکٹ کی منظوری کے بعد بغیر مقدّمہ چلائے غیر معیّنہ مدت کے لئےقید میں ڈالنا اب قانون بن گیا ہے ۔ بالآخر اس قانون کا فائدہ صرف ان لوگوں کو پہنچے گا۔جنہوں نے اسے اپنے اختیارات بڑھانے کے لئے بنایا۔ کالم نگار کا کہنا ہے کہ اذیت رسانی کا یہ پروگرام قانون کی بالادستی اور اخلاقیا ت کے منافی ہے ۔ اور شہریوں کی حیثیت سے ہمارا یہ فرض بھی بنتا ہے اور حق بھی، کہ حکومت سے مطالبہ کریں کہ اذیّت رسانی کے اس پروگرام کی تحقیقات کی جائے اور عوام کے آئینی حقوق کا احترام کیا جائے۔

لاس اینجلس ٹائمز کہتا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور بین الاقوامی فوجو ں کا بیشتر حصہ نکل آئے گا اور اپنے پیچھے ایک ایسی افغان حکومت چھوڑ جائیں گے جو یا تو اتنی طاقتور ہوگی کہ اپنے آپ کو برقرار رکھ سکے یا پھر اتنی کمزور اور الگ تھلگ ہوگی کہ اس کے چاروں طرف اسلامی جنگجوؤں کا غلبہ ہوگا۔ جس کی وجہ سے اس کا بہت امکان ہے کہ حکومت گر جائے۔ اور اس طرح تیرہ سال کی ریاضت اور اربوں ڈالر صرف کرنے اور اٹھارہ سو امریکی جانوں کی قربانی کے بعد جو پیش رفت وہاں ہوئی ہے اس سب پر پانی پھر جائے ۔اخبار کا خیال ہے کہ اس امکان کو روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ ایک پر امن تصفیہ کیا جائے۔ اخبار کہتا ہے ، کہ زیادہ بڑی فوجی کاروائی کرنے، جانیں گنوانے اور مزید خزانہ لُٹانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ پاکستان میں باغیوں کو جو پناہ گاہیں حاصل ہیں اور غیر ملکی مداخلت کی جتنی سنگین مخالفت ہے ان کے پیش نظر افغانستان قومی تعمیر کی کوئی مشق شروع کرنے کے لئے قطعاً موزوںجگہ نہیں ہے۔ استحکام اسی صورت میں ممکن ہے اگر مذاکرات کار ایک ایسا سمجھوتہ کرا سکیں جس کے تحت اسلام پسند ہتھیار رکھ دیں اور بین الاقوامی دہشت گردی سے توبہ کرلیں جس کے عوض انہیں نئی حکومت میں سیاسی اثرو نفوذ حاصل ہوگا۔

XS
SM
MD
LG