رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: امریکی فوج کی واپسی کا اعلان، قوم کو سُکھ کا سانس نصیب ہوگا

  • صلاح احمد

امریکی اخبارات سے: امریکی فوج کی واپسی کا اعلان، قوم کو سُکھ کا سانس نصیب ہوگا

امریکی اخبارات سے: امریکی فوج کی واپسی کا اعلان، قوم کو سُکھ کا سانس نصیب ہوگا

اخبار’ٹمپا بے ٹربیون‘ کہتا ہے کہ امریکی ہر قیمت پر صدام حسین کو اقتدار سے محروم کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔ اُنھیں اپنی فوج پر پورا اعتماد تھا کہ وہ اِس مہم کے جنگی پہلوؤں کو بخوبی سنبھالے گی۔ لیکن، لیڈروں نے اِس جنگ پر اُٹھنے والے خرچ کا نہایت ہی غلط اندازہ لگایا تھا

صدر اوباما کے عراق سے امریکی فوجیں واپس بلانے کے فیصلے پر اخبار’ ٹمپا بے ٹربیون‘ کہتا ہے کہ اِس اعلان کے ساتھ قوم کو مجموعی طور پر سُکھ کا سانس نصیب ہوگا۔

اخبار کہتا ہے باوجود یہ کہ اِس جنگ کا کامیاب اختتام ہوا، عوام اِس پر خوشی محسوس نہیں کرتے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اگر صدام حسین اقتدار پر برقرار رہتا تو کیا ہوتا۔ لیکن یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ اس کے بارے میں ہمیں اِس وقت جو کچھ معلوم ہے اگر وہ ہمیں 2003ء میں معلوم ہوتا، تو عراق پر کبھی بھی امریکی حملہ نہ ہوتا۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکی ہر قیمت پر صدام حسین کو اقتدار سے محروم کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔ اُنھیں اپنی فوج پر پورا اعتماد تھا کہ وہ اِس مہم کے جنگی پہلوؤں کو بخوبی سنبھالے گی۔ لیکن، لیڈروں نے اِس جنگ پر اُٹھنے والے خرچ کا نہایت ہی غلط اندازہ لگایا تھا۔

اخبار کا سوال ہے کہ اگر اس وقت کے وزیر دفاع ڈانلڈ رمز فیلڈ عراق جنگ پر اُٹھنے والے سرچکرانے والے اخراجات کا تخمینہ اُس وقت بتاتے تو کیا ہوتا؟ کسے معلوم تھا کہ عراق کی جنگ میں شرکت کرنے والی امریکی فوجیوں کی تعداد دس لاکھ تک پہنچ جائے گی،

32000امریکی فوجی زخمی ہوں گے اور 4480اپنی جان کا نذرانہ دیں گے، جب کہ ہلاک ہونے والے عراقیوں کی تعداد ساڑھے چھ لاکھ سے تجاوز کرے گی۔

2007ء میں کانگریس کی بجٹ کمیٹی نے تخمینہ لگایا تھا کہ عراق کی جنگ پر اُٹھنے والا مجموعی خرچ ایک اعشاریہ 1.9 ٹریلین ڈالر ہے۔ لیکن، اخبار ’کرسچن سائنس مانٹر‘کے تخمینے کے مطابق یہ خرچ اُس سے دوگنا ہے۔

اخبار نے صدر اوباما کے اس دعوے سے اتفاق کیا ہے کہ امریکی فوجی اپنی کامیابی پر فخر سے اپنا سر بلند کرکے عراق سے واپس آئیں گے اور یہ احساس لے کر آئیں گے کہ پوری امریکی قوم اُن کی حمایت میں متحد و متفق ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اُن فوجیوں اور اُن کے خاندانوں نےبھاری قربانیاں دیں اور اِس میں شک نہیں کہ اُنھیں عوام کی پوری حمایت حاصل ہے۔

اُن میں سے بہت سے ایسے زخمی ہیں جنھیں 40سال تک طبی نگہداشت اور علاج کی ضرورت رہے گی۔

اخبار، PEWریسرچ کے ایک تازہ عوامی جائزے کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے جِس کے مطابق ہر تین میں سے ایک فوجی کا خیال ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کا جواز نہیں تھا۔ بہرحال، اخبار کے خیال میں عراق میں لڑنے والے فوجی اُن کی خدمات کے اعتراف کے قومی دن کے مستحق ہیں۔ اُنھیں ہر اعتبار سے فتح نصیب ہوئی ہے۔

’لاس ویگس سن‘ میں عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی پر ایک قاری نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ صدر جارج ڈبلیو بُش نے 2008ء میں عراقی حکومت کے ساتھ مل کر تفصیلات طے کی تھیں کہ امریکی فوجیں عراق سے واپس بلائی جائیں گی، جب کہ صدر بننے سے پہلے براک اوباما نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اُسی سال کہا تھا کہ جنگ ختم کریں گے۔ چناچہ، اُنھوں نے یہی کچھ کیا ہے۔ اب قاری کا سوال یہ ہے کہ بعض ریپبلکن لیڈر کیوں کہہ رہے ہیں کہ امریکی فوجوں کی واپسی کی جو تعطیلات صدر بُش نے طے کی تھیں اُن پر عمل کرکے صدر اوباما نے غلطی کی ہے۔ کیا اِسے یادداشت کی کمزوری کہا جائے یا شاطرانہ سیاست؟

سنڈیکیٹڈ کالم نگار کا ایک مضمون’ سیٹل ٹائمز‘ میں چھپا ہے جِس میں اُنھوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کو درپیش ایک مخمصے پر بحث کی ہے۔

وہ کہتے ہیں بیسویں صدی کے وسط میں 70فی صد امریکیوں کا کہنا تھا کہ اُنھیں حکومت پر اعتماد ہے کہ وہ بیشتر وقت صحیح قدم اُٹھائے گی، جب کہ 1970ء کی دہائی کے دوران صرف 25فی صد امریکی ایسا سوچتے تھے۔

رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق اب ایسے امریکیوں کا تناسب صرف 15فی صد رہ گیا ہے۔

لہٰذا، ڈیموکریٹس کے لیے یہ ایک مخمصہ ہے اور وہ صرف اُسی صورت میں انتخاب جیت سکتے ہیں اگر وہ بڑی حکومت اور چھوٹی حکومت پر اِس نظریاتی مباحثے کی تُندی سے نجات پا سکیں۔ سابق صدر بِل کلنٹن نے لوگوں کو قائل کرلیا تھا کہ وہ بڑی حکومت کے حامی لبرل نہیں ہیں، جب کہ اُن کی انفرادی پالیسیاں حقیقت میں خاصی مقبول تھیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG