رسائی کے لنکس

ان دنوں آلو 50 سے 60 روپے فی کلو کے مہنگے ترین نرخ پر فروخت ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے آلو مافیا کو جمعرات تک کا الٹی میٹم دیدیا ہے۔ بقول اُن کے،’آلو مافیا نے آلو کو ذخیرہ کرکے مہنگا بیچنا شروع کردیا ہے‘

پاکستان میں لینڈ مافیا، بھتہ مافیا اور دیگر مافیاوٴں کے بعد اب ’آلو مافیا‘ بھی سرگرم عمل دکھائی دیتا ہے، جس نے آلو کی قیمتوں کو پَر لگا کر اُسے آسمانوں تک پہنچا دیا ہے۔

ان دنوں آلو 50 سے 60 روپے فی کلو کی قیمت پر، تاریخ کی سب سے مہنگی قیمت میں فروخت ہو رہا ہے۔

گزشتہ روز، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آلو کی قیمت کو کم کرنے کیلئے سخت کارروائی کی۔ اُُن کا کہنا تھا کہ جمعرات تک آلو کی قیمتیں کم ہوکر 30 روپے تک آجائیں گی۔

وزیر خزانہ نے آلو مافیا کو جمعرات تک کا الٹی میٹم دیدیا ہے۔ بقول اُن کے، آلو مافیا نے آلو کو ذخیرہ کرکے مہنگا بیچنا شروع کردیا ہے۔

وزیرخزانہ نے آلو مہنگا بیچنے والے افراد کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مہنگا آلو بیچنے والوں نے اسکی قیمتیں کم نہ کیں، تو آلو کی بیرون ممالک سے درآمد پر پابندی لگا دی جائیگی۔

اس الٹی میٹم کا رد عمل جاننے کیلئے نمائندہ نے کراچی کی مختلف مارکیٹوں کا رخ کیا۔ معلوم ہوا کہ کراچی کی بہت سی مارکیٹوں میں آلو من مانے داموں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ کراچی شہر کی کچھ مارکیٹ میں آلو کی قیمت 40 سے 50 روپے فی کلو، جبکہ کچھ مارکیٹوں میں اسکی قیمت 60 روپے فی کلو تک ہے۔

نمائندہ سے گفتگو میں ایک سبزی فروش نے بتایا کہ ’آلو کی قیمت میں اضافہ ہم نے نہیں کیا۔ ہمیں آگے سے ہی مہنگا آلو مل رہا ہے۔ تو اسی حساب سے ہی فروخت کررہے ہیں۔‘

نمائندہ کے استفسار پر سبزی فروش کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں کہ وزیر خزانہ کی جانب سے کوئی الٹی میٹم جاری ہوا ہے۔ بقول اُن کے، ’ہم غریب آدمی ہیں سستی سبزی ملے گی تو سستا بیچیں گے، ورنہ مہنگا ملنے پر مہنگا آلو ہی فروخت کیا جائےگا۔‘

بظاہر، لگتا یوں ہے کہ وزیرخزانہ کے الٹی میٹم اور سخت ایکشن کے باوجود، آلو مافیا کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

عام آدمی ویسے ہی مہنگائی سے پریشان ہے۔ رہی سہی کسر یہ رہ گئی تھی کہ سبزیوں کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں!
XS
SM
MD
LG