رسائی کے لنکس

افغانستان: داعش کے حامی طلبا حراست میں


ننگرہار یونیورسٹی کے طلبا اس سال جنوری میں ایک مظاہرے میں شریک۔ (فائل فوٹو)

ننگرہار یونیورسٹی کے طلبا اس سال جنوری میں ایک مظاہرے میں شریک۔ (فائل فوٹو)

گزشتہ ہفتے ننگرہار یونیورسٹی طلبا کی ایک بڑی تعداد نے ہاسٹل کے کمروں اور کھانے کی قواعد پر مظاہرہ کیا تھا مگر بعض طلبا نے مظاہرے میں داعش اور طالبان میں حق میں نعرے بازی کی۔

وائس آف امریکہ، افغان سروس

افغان حکام نے منگل کو جلال آباد سے داعش کے حق میں نعرے لگانے والے 27 طلبا کو حراست میں لے لیا۔ ان میں سے متعدد گزشتہ ہفتے داعش کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے میں شامل تھے۔

ننگرہار کے گورنر سلیم خان قندوزی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ افغان سکیورٹی فورسز نے ننگر ہار یونیورسٹی کے ہاسٹل پر منگل کی رات چھاپہ مارا۔

گزشتہ ہفتے طلبا کی ایک بڑی تعداد نے ہاسٹل کے کمروں اور کھانے کی قواعد پر مظاہرہ کیا تھا مگر بعض طلبا نے مظاہرے میں داعش اور طالبان میں حق میں نعرے بازی کی۔

بعض طلبا جنہوں نے داعش اور طالبان شدت پسندوں کی طرح چہرے پر نقاب پہن رکھے تھے نے ان دو تنظیموں کے پرچم لہرائے۔

ایک طالب علم نے لاؤڈ سپیکر پر کہا ہے ’’داعش، طالبان اور حزب اسلامی کے پرچم لہرا کر ہم ملک کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔‘‘ اس کے جواب میں مظاہرے میں شریک طلبا نے داعش اور طالبان کے حق میں نعرے بازی کی۔

ننگرہار یونیورسٹی کے صدر ببرک میاں خیل نے طلبا کی گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں سے کہا تھا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر کے مناسب کارروائی کریں۔

ننگرہار کے پولیس سربراہ احمد شیرزاد نے کہا کہ گرفتار ہونے والے طلبا نے ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے حکومت مخالف شدت پسند گروہوں سے وابستہ ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔

داعش کے گڑھ میں ہونے والے اس مظاہرے کی خبریں پورے افغانستان میں شائع ہوئیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے یونیورسٹی میں ہونے والے کہ اس واقعے سے اس تشویش میں اضافہ ہوا ہے کہ محرومی کا شکار افغان نوجوان داعش کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں افغانستان میں داعش کی طرف سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے خصوصاً ننگرہار صوبے میں جہاں گزشتہ دو ماہ کے دوران جنگجوؤں نے افغان سکیورٹی چوکیوں پر متعدد حملے کیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG